پاکستان قطعی طور پر تنہائی کا شکار نہیں: وزارتِ خارجہ

نفیس زکریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کا جغرافیائی محل و وقوع بہت اہم ہے: نفیس زکریا

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا ہے کہ بھارتی پروپیگینڈے کے برعکس پاکستان قطعی طور پر تنہائی کا شکار نہیں ہے بلکہ خود کو ایشیا میں توانائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سہولت کار کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔

یہ بات انھوں نے جمعے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

بریفنگ کے آغاز میں ترجمان نے بتایا کہ کشمیر کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھیجے جانے والے سفارت کاروں کے وفود نے ترکی، امریکہ اور برطانیہ میں اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو بھارتی مظالم کے ثبوت فراہم کیے۔

ترجمان نے بتایا کہ ان وفود کی ملاقاتیں بہت کامیاب رہیں۔

بی بی سی کے اس سوال پر کہ بھارت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ترجمان نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئیے اس دعوے کی نفی کی اور کہا کہ یہ محض بھارتی پروپیگنڈا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے الفاظ کا استعمال صرف دشمن کے پیغام کا پرچار کرتے ہیں اس قسم کے الفاظ دشمن کے پیغام کو پھیلاؤ دیتے ہیں جو چاہتا ہے کہ لوگ پاکستان کو اس تناظر میں دیکھیں۔

'آپ کو سمجھنا چاہیے کہ یہاں کسی قسم کی کوئی سفارتی تنہائی نہیں ہے۔'

ترجمان نے مزید یہ کہا کہ پاکستان عالمی امور میں مکمل طور پر شامل ہے جس کی مثال پاکستان کی کئی کثیر جہتی پروگرام میں شمولیت ہے اور کئی ممالک کے عہدیداران بھی پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔ 'میں روس کی مثال دے چکا ہوں۔ میں ایران کی مثال دے چکا ہوں، جن سے ہمارے اعلیٰ ترین سطح پر کشیدگی کے باوجود تعلقات رہے ہیں جو کے تنہائی کے الزامات کو غلط ثابت کرتے ہیں۔'

سینیٹر مشاہد حسین کے سارک تنظیم کو توسیع کرنے کے بیان پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی کا محل و وقوع بہت اہم ہے۔

'ان تین خطوں کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے پاکستان ایک قدرتی اقتصادی مرکز ہے، اور پاکستان قدرتی طور پر ایک خطے سے دوسرے خطے میں توانائی کی راہداری ہے۔ ان ممالک کے لیے جنھیں توانائی کی ضرورت ہے پاکستان اپنے آپ کو سہولت کار اور رابطے کے طور پر دیکھتا ہے۔ میرے خیال میں آپ کو علاقائی رابطوں اور علاقائی انضمام کے زاویے سے دیکھنا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں