توانائی کی پالیسی پر بحث کے دوران بجلی چلی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وینزویلا میں توانائی کا شدید بحران ہے اور اکثر بجلی کی قلت رہتی ہے۔

لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا میں بدھ کے روز پارلیمان کے ایک اجلاس میں اس وقت بجلی چلی گئی جب ایوان توانائی کے معاملے پر ایک قانون پر بحث کر رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کے حامی قانون ساز رامون لوبو صدر نکولس مادورو کی تونائی کے حوالے سے پالیسی کا دفاع کر رہے تھے جب پارلیمنٹ کی عمارت میں بجلی چلی گئی۔

حزبِ اختلاف کے رکنِ پارلیمان لوئس فلوریڈو نے ٹوئٹر پر کہا کہ ملک کی حقیقت ان کے منہ پر ماری گئی ہے۔

بجلی جانے کے بعد اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا۔ وینزویلا میں توانائی کا شدید بحران ہے اور اکثر بجلی کی قلت رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER - @LUISFLORIDO
Image caption حزبِ اختلاف کے رکنِ پارلیمان نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'ملک کی حقیقت ان کے منہ پر ماری گئی ہے۔'

اطلاعات کے مطابق بدھ کی دوپہر دارالحکومت کراکس میں متعدد دیگر عمارتوں کی بھی بجلی چلی گئی تھی۔

لوئس فلوریڈو نے ٹوئٹر پر کہا ’جیسے رامون لوبو صدر مادورو کے جھوٹ بول رہا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ ملک کی حقیقت ان کے منہ پر ماری گئی ہے۔‘

وینزویلا کی قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کا کنٹرول ہے۔

ادھر حزبِ اختلاف کے ایک اور رکن نے ایوان میں تاریکی کی ویڈیو بھی ٹوئٹر بھی اپ لوڈ کی۔

حزبِ اختلاف کے ہی ایک اور رکنِ پارلیمان فریڈی گوویرا نے کہا کہ توانائی کے بارے میں قانون پر بات کرنے والے روز ہی ایسا ہونا شرم کی بات ہے۔

تیل کے وسائل سے لیس وینزویلا تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔

ملک میں بنیادی اشیائے ضرورت، اشیائے خوردونوش اور بجلی کی قلت ہے۔

اس سال کے آغاز میں حکومت نے لوڈشیڈنگ اور پبلک سیکٹر کے ملازمین کے لیے ہفتے کے دوران چھٹیوں کا اعلان کیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں حشک سالی کے باعث ڈیموں میں پانی کی کمی ہے تاہم حزبِ اختلاف حکومت پر بد انتظامی کا الزام لگاتی ہے۔

اسی بارے میں