کیا وسطی ایشیا میں پانی پر جنگ ہوگی؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سوویت دور کا نظام، جس میں پانچ ملک وسائل مل بانٹ کر استعمال کرتے تھے، درہم برہم ہوچکا ہے۔

وسطی ایشیا میں پانی اور بجلی کا بحران جنم لینے کو ہے۔ سویت دور کا نظام، جس کے تحت خطے کے پانچ ملک اپنے وسائل مل بانٹ کر استعمال کرتے تھے، درہم برہم ہوچکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی کو پانی تو کسی کو بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے گڑبڑ کے چھوٹے موٹے واقعات پہلے ہی پیش آ چکے ہیں، اور بعض لوگ خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔

جنوری 2009 کی ایک یخ بستہ رات تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کا بڑا حصہ اچانک تاریکی میں ڈوب گیا۔

شہر میں زچہ و بچہ کے ایک ہسپتال میں جنریٹروں نے کام کرنا چھوڑدیا جس کی وجہ سے مصنوعی تنفس پہنچانے والے آلات بند ہوگئے۔ دو نومولود بچیوں کی جانیں بچانے کے لیے طبی عملہ سرتوڑ کوششیں کرتا رہا۔

ایک بچی پریسو کے والد صیام الدین دستوف نے بجلی کے متبادل ذریعے کےلیے گھبراہٹ میں دوستوں کو ٹیلی فون کرکے مدد مانگی۔

تقریباً دو گھنٹے بعد ان کے دوست گھپ اندھیرے میں سیڑھیوں پر سے ایک 200 کلوگرام وزنی جنریٹر پانچویں منزل تک لے جانے میں کامیاب ہوئے تو دستوف سخت سردی میں ایک موم بتی کی ٹمٹماتی لو میں اپنی بیٹی کی اُکھڑتی سانسیں گن رہے تھے۔

'مجھے صاف لگ رہا تھا کہ اس میں سانس لینے کی سکت نہیں تھی۔'

Image caption کچھ ریاستیں پانی کی کمی کا شکار ہیں کہیں پانی کی فراوانی ہے

چار گھنٹوں تک موت و زیست کی کشمکش میں رہنے کے بعد ننھی پریسو سردی اور گرمی کے احساس سے بے نیاز ہوگئی۔

انسانی یادداشت میں محفوظ اس شدید ترین موسم سرما میں تاجکستان میں زندگی کی جنگ ہارنے والی وہ تنہا نہیں تھی۔ اُس برس ملک میں درجۂ حرارت انتہائی نیچے گر گیا تھا اور بجلی کا نظام مکمل طور پر چوپٹ ہوکر رہ گیا تھا۔

اس بحران نے بالکل واضح کر دیا کہ پانچ وسطی ایشیائی ممالک میں سویت دور سے قائم پانی اور بجلی کی مشترکہ تقسیم کا یہ پچیدہ نظام اب ناکارہ ہوچکا ہے۔

یہ نظام ایک سادہ اصول پر قائم تھا۔

قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان کی ریاستیں توانائی سے مالامال تھیں جبکہ تاجکستان اور کرغستان میں پانی کی فراوانی تھی۔ ان دو وسیلوں کے اشتراک سے اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ بہار اور گرمیوں میں فصلوں کے لیے پانی میسر رہے اور سردیوں میں سب کو بجلی ملے۔

خطے کے دو عظیم دریاؤں - سِر اور آمو - میں پانی کی قلت کا مطلب ہوتا کہ نشیبی علاقوں میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی۔

جبکہ پانی کے ان منابع والے ملکوں میں بجلی کے نہ ہونے سے وہاں کی کڑکڑاتی سردی میں زندگی ناقابِل برداشت تھی۔

قازقستان کے سیاسی تجزیہ نگار رسول جمالی کہتے ہیں کہ 'اختلافات کا خدشہ تو ہمہ وقت رہتا تھا لیکن ماسکو ایسے تنازعات کا حل نکال لیتا تھا۔'

Image caption عاصمہ دلنابے: پانی کے بغیر ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں

پر 1991 میں سویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا اور ہر ملک کو اپنے مسائل سے خود نمٹنا پڑا۔

ماسکو میں مقیم سیاسی تجزیہ نگار آندرے کزانچیف کے بقول پانی کے بہاؤ پر نچلی جانب واقع ریاستوں کو خوراک کی سلامتی کا مسئلہ درپیش تھا جبکہ اونچائی پر واقع ملکوں کے لیے توانائی کی فراہمی یقینی بنانا اہم تھا۔ جمالی کے بقول 'اگر موسمِ سرما میں ایک سردی سے ٹھٹھرتا تو دوسرا فریق فاقوں مرتا۔'

اگرچہ یہ ملک اس سلسلے میں باہمی شراکت اور تعاون جاری رکھ سکتے تھے، اور کچھ عرصے کے لیے انھوں نے ایسا کیا بھی، مگر توانائی سے مالامال زیریں ملکوں کو اپنی گیس اور بجلی بالائی اور مفلس ہمسایوں کے مقابلے غیرملکی خریداروں کو فروخت کرنے میں زیادہ فائدہ نظر آیا۔

اسی لیے 2009 میں ازبکستان نے وسط ایشیائی بہم رسانی کے نظام سے نکل کر اپنی بجلی افغانستان کو بیچنا شروع کر دی۔

Image caption تاجکستان نے ہمارا پانی لے لیا

ننھی پریسو کی موت اسی سودے کا شاخسانہ تھی!

دوسری طرف تاجکستان اور کرغزستان نے سردیوں میں زیادہ بجلی بنانے کے لیے مزید پانی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قازقستان اور ازبکستان کی زرعی زمینوں کو کاشت کے بعد آبپاشی کے لیے کم پانی میسر آیا۔

وسطی ایشیا میں ایسے لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جنھیں یا تو پانی کی کمی کا سامنا ہے یا توانائی کی۔

عاصمہ دلانبے پچھلے چالیس برس سے قازقستان میں چقندر کاشت کرکے اپنی بسر اوقات کرتی رہی ہیں۔ لیکن 2009 میں کرغستان سے آنے والا پانی خشک ہوگیا۔

اب ان کی تھوڑی بہت کاشت کا انحصار ٹیوب ویل کے پانی پر ہے۔ ان کے گھر کے اطراف حد نظر تک پھیلے ان کے کھیت اجڑے ہوئے اور زمین چٹخی ہوئی ہے۔

اپنے بچوں اور ہمسایوں کی طرح اب عاصمہ بھی یہاں سے کوچ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ 'یہ ہی حال رہا تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہم پانی کے بغیر یہاں نہیں رہ سکتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بشکک میں اپریل 2010 میں ہونے والے مظاہروں کے بعد صدر قربان بیگ بکیاف اقتدار سے علحیدہ ہو گئے تھے

کرغستان کے بعض حصوں میں پانی سرحد پار سے آتا ہے۔

کاپر توکتوشیف ایک سابق سکول ٹیچر ہیں اور بالعموم جھگڑوں سے دور رہتے ہیں۔ مگر 2014 میں وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کرغز-تاجک سرحد پر واقع اپنے گاؤں سے باہر ایک پگڈنڈی پر چلتے ہوئے انھوں نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا:

'یہ وہ مقام ہے جہاں پر تاجکوں سے اس وقت ہمارا تصادم ہوا جب انھوں نے گرمیوں میں آبپاشی کے لیے ہمارا پانی بند کر دیا۔

'ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ ہم نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ حتٰی کہ ہمیں باہم دست و گریباں ہونے سے روکنے کے لیے فوج کو مداخلت کرنا پڑی۔'

اگرچہ کرغزستان کے پاس پانی کے بڑے ذخائر ہیں، مگر تاجکستان کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے سویت دور میں اس گاؤں کو تاجکستان سے پانی فراہم کیا جاتا تھا۔

1991 میں خودمختاری کے بعد یہ چھوٹی سی جغرافیائی حقیقت اس لیے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی کہ سرحد کے دونوں جانب آبادی اور پھر پانی کی مانگ میں اضافہ ہوا۔

توکتوشیف نے بتایا کہ،'تاجکوں نے پانی کا رخ اپنے کھیتوں کی طرف موڑ دیا اور ہماری فصلیں سوکھنے لگیں۔'

Image caption تاجکستان میں پن بجلی پیدا کرنے کے سب سے بڑا منصوبہ

انھوں نے مجھے اپنا باغ دکھایا جس میں اب صرف سوکھی گھانس اور خوبانی کے چند مُڑے تُڑے درخت تھے۔ 'میں کچھ نہیں اگا سکتا۔ پانی ہی نہیں ہے۔'

اس طرح کے چھوٹے موٹے جھگڑے تو اور بھی ہو سکتے ہیں مگر ان پانچ میں سے کسی بھی ملک میں زیادہ خدشہ سیاسی عدم استحکام کا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اپریل 2010 میں کرغز صدر کرمانبیک باقیف کی پرتشدد معزولی بھی بجلی کے مسلسل شٹ ڈاؤن اور اس کی قیمت میں اضافہ پر لوگوں کے غم و غصّے کا نتیجہ تھی۔

ازبکستان نے جب 2009 میں توانائی کے مرکزی نظام سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو کرغستان کو مہنگے داموں بجلی کی نئی تاریں بچھانا پڑیں جس سے 2010 میں بجلی کی فراہمی کی لاگت دُگنی ہوگئی۔ گھریلوں صارفین پر اس کا بوجھ اور بھی زیادہ پڑا۔

غیر ملکیوں کو گیس اور بجلی کی فروخت کے بعد ازبکستان میں بھی توانائی کی کمی ہوگئی۔

بعض چھوٹے قصبوں اور دیہات میں لوگوں کو صرف چند گھٹنے ہی بجلی میسر آتی ہے۔ جبکہ ملک کے بڑے حصے میں گیس اب دور کہیں ماضی کے کسی طاقچے پر رکھی یاد بن کر رہ گئی ہے۔

وادئ فرغانا میں ایک سکول ٹیچر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گاؤں 'رِشتان' میں خلاف ورزی پر سزا کے باوجود شاید ہی کو کھڑا درخت نظر آئے کیونکہ لوگوں کو جلانے کے لیے لکڑی چاہئے۔

انھوں نے کہا: 'ہمارے سکول تک میں ایندھن نہیں ہے۔

'طلبہ سردیوں میں کمرۂ جماعت گرم رکھنے کے لیے روزانہ باری باری گھر سے لکڑی لے کر آتے ہیں۔

'حکومت دوسرے ملکوں کو گیس بیچ رہی ہے۔ جب کہ ازبکستان کے لوگ سردیوں میں بغیر ایندھن اور بجلی کے سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں۔'

خراب حکومت، رشوت ستانی اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں نے مہنگائی اور کام کی تلاش میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے مل کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس پر بددل نوجوانوں کا انتہا پسند گروہوں کی جانب راغب ہونا، افغانستان میں ازبک اور تاجک سرحد کے قریب جنگ میں تیزی - ایسے میں کسی ڈراؤنے خواب کا خیال تعجب کی بات نہیں۔

تاجکستان کے جنوب میں روغن پن بجلی کا منصوبہ نظر آ رہا ہے۔ اگر سرمایا کاری کے لیے کوئی سامنے آگیا تو اس کے تحت یہاں دنیا کا سب سے اونچا بند تعمیر کیا جائے گا جس کی بلندی 335 میٹر ہوگی۔

اسے پانی سے بھرنے میں سولہ برس لگیں گے۔ مگر اس کا براہِ راست اثر ازبکستان اور ترکمانستان میں دریائے آمو پر ہوگا۔

تاہم اس کی تعمیر سے تاجکستان خطے میں توانائی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور بجلی کی عدم دستیابی سے ننھی پریسو کی موت ماضی کی بات بن کر رہ جائے گی۔

ازبکستان کے مردِ آہن صدر اسلام کریموف نے، جن کا ستمبر میں انتقال ہوا، روگن منصوبے اور کرغزستان میں کمباراٹا منصوبے کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ 2012 میں اپنی ایک تقریر کے دوران انھوں نے نہایت درشت لہجے میں کہا: 'ان کا کیا بننے گا جو پانی کے بہاؤ پر نیچے کی جانب واقع ملکوں میں رہتے ہیں؟

'جب وہ ان دریاؤں پر یہ رکاوٹیں تعمیر کریں گے تو مستقبل میں ہمیں کتنا پانی ملے گا۔ اس سے علاقے میں تنازعات پیدا ہوں گے جس سے جنگ بھی چِھڑ سکتی ہے۔'

اس مضمون کی تیاری میں بی بی سی رشیا کی اُکسانا وُژدیوا اور میکس لوماخِن نے بھی مدد دی ہے۔