صدر اوباما کی بیٹی کا سنیپ چیٹ پر اپنے والد کا مذاق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ساشا نے اپنی پوسٹ میں اپنے بور ہونے کی بات کی

امریکی صدر براک اوباما نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'سنیپ چیٹ' پر ان کا مذاق اڑیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی بیٹی ساشا نے گھر والوں کے ساتھ ڈنر پر سوشل نیٹ ورک کے موضوع پربات چیت کو خاموشی سے ریکارڈ کر کے اپنے تبصرے کے ساتھ دوستوں کے ساتھ شیئر کر دیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر اوباما نے اپنی صاحبزادی کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں بات کی ہو۔

اس سال جولائی میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کی بیٹی ٹوئٹ کرتی ہیں جس کی وجہ سے میڈیا کے کئی ادارے ان کے اصل اکاونٹ کا کھوج لگانے میں لگ گئے۔

لیکن یہ سب خفیہ ہی رہا اور اس طرح سنیپ چیٹ کی کاپی بھی عام نہیں ہو سکی۔ سنیپ چیٹ ایپلیکیشن پر پیغام دیکھ لینے کے بعد خود بخود عائب ہو جاتا ہے لیکن ان سب پابندیوں یا احتیاطی طریقوں سے نمٹنے کے راستے بھی موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر اوباما جمی کیل کے شو میں اس ہفتے اچانک نظر آئے

اوباما نے کہا کہ ساشا انھیں سنیپ چیٹ پر ہدایات دیتی رہتی ہیں۔

'ایک رات جب ہم ڈنر کر رہے تھے اور میں نے پڑھا تھا کہ سنیٹ چیٹ اس کی عمر کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہو رہا تو میں نے ساشا سے پوچھا کہ مجھے سنیپ چیٹ کے بارے میں کچھ بتاؤ۔

’ساشا نے بتانا شروع کیا کہ آپ اس پر اپنی تصویروں سے شکلیں بنا سکتے ہیں اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کر سکتے ہے۔'

’اس کے بعد میں اور مشیل اکیلے بیٹھے تھے تو میں نے کہا کہ یہ دلچسپ چیز ہے نا۔

’اور اس کے بعد مجھے پتا چلا کہ وہ یہ سب کچھ ریکارڈ کرتی رہی اور پھر اس نے یہ ریکارڈنگ اپنے دوستوں کو بھیجی کہ دیکھو میرے ڈیڈ ہمیں سوشل میڈیا کے بارے میں لیکچر دے رہے ہیں۔'

’ ساشا نے اپنی تصویر بھی اس شکل کے ساتھ بنائی جیسے وہ بور ہو رہی ہو۔'

امریکی صدر نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے اس سال جون میں سنیپ چیٹ جوائن کیا اور ان کی بڑی صاحبزادی مالیا کو یہ پوسٹ بہت پسند آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی خاتون اول کی طرف سے سنیپ چیٹ پر پوسٹ کیا جانا والا پیغام جو کچھ دیر کے لیے سنیپ چیٹ پر رہا

ایک ٹی وی شو کے میزبان جم کیمل نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو سکیورٹی میں داڑ پڑ گئی۔

صدر نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ ان کا آئی فون صرف ای میل وصول کرنے اور انٹر نیٹ دیکھنے تک محدود ہے اور اس سے تصویر نہیں لی جا سکتی، موسیقی سنی نہیں جا سکتی، حتی کہ کال بھی نہیں کی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ صدارت کے دوران ان کا یہ اصول رہا اور ان کا خیال تھا کہ کسی دن کوئی ان کی ای میل پڑھ لے گا۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ انھوں نے کوئی ای میل نہیں بھیجی تاکہ کبھی یہ کسی اخبار کے سر ورق پر شائع نہ کر دی جائے۔