بورس جانسن کا یورپی یونین کےاجلاس میں شرکت سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ، بورس جانسن تصویر کے کاپی رائٹ EPA/AP

برطانوی دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر یورپی وزارئے خارجہ کے خصوصی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن ایک روز پہلے یورپی یونین کے ممالک کو مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر رونا دھونا بند کریں۔

برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیرخارجہ بورس جانسن اتوار کے روز یوریی وزرائے خارجہ کی سپیشل میٹنگ میں شریک نہیں ہوں گے اور ان کی جگہ وزارت خارجہ کا کوئی سینئیر اہلکار اجلاس میں برطانیہ کی نمائندگی کرے گا۔

برطانوی وزارت خارجہ نے کہا:' ہم سمجھتے ہیں کہ اتوار کے روز بلائے جانے والے اجلاس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ امریکی انتخابات کا شیڈول پہلے سے واضح تھا۔ ایک جہموری عمل وقوع پذیر ہو چکا ہے، اور یہ تبدیلی کا وقت ہے اور ہم موجودہ اور آنے والی انتظامیہ سے مل کر برطانیہ کے بہترین مفاد کو یقینی بنائیں گے۔'

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے گذشتہ روز کہا تھا: 'میں بڑے ادب سے اپنے یورپی دوستوں کو کہتا ہوں کہ اس دکھ اور پریشانی کی فضا سے باہر نکلیں جو امریکی انتخابی نتائج کے بعد کچھ مقامات پر پھیلی ہوئی ہے۔ '

برطانوی وزیر خارجہ کا بیان یورپی یونین کے صدر یاں کلاڈ ینکر کے اس بیان سے متصادم ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد سے امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔'

لکسمبرگ کے اخبار کے مطابق مسٹر ینکر نے کہا کہ 'عام طور پر امریکی یورپ پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، جہاں تک مسٹر ٹرمپ کا تعلق ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اُن کے خیال میں بیلجیئم ہمارے براعظم پر موجود کوئی دیہات ہو گا۔'

انھوں نے کہا کہ 'میری ایماندارنہ رائے یہ ہے کہ ہمیں مسٹر ٹرمپ کے ساتھ دو سال ضائع کرنے ہوں گے جب تک کہ وہ دنیا کا دورہ کر کے اُسے جان نہ لیں۔

اسی بارے میں