پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی ڈرون مار گرایا

تصویر کے کاپی رائٹ Wikipedia

کشمیر کے متنازع علاقے میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے انڈین فوج کے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فوجیوں نے اس ڈرون طیارے کے ملبے کو قبضہ میں لے لیا ہے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس کواڈ کوپٹر کو لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی فوجی چوکی آگاہی پوسٹ نے فائرنگ کر کے اس ڈرون طیارے کو نشانہ بنایا۔ یہ طیارہ ساٹھ میٹر پاکستان کی فضائی حدود کے اندر پرواز کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ ایک دن قبل پاکستان کی بحریہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں گھس آنے والے بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز کی نشاندہی کے بعد اسے پاکستانی کی سمندری حدود سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کو لائن آف کنٹرول پر گرایا گیا ڈرون ویڈیو بنانے والا کواڈ کوپٹر تھا اور پاکستان کے دفاعی ماہرین کے مطابق یہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی فوجی چوکیوں اور فوجی پوزیشن کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے الزام لگایا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے انڈین فوج نے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک بھائی اور دو بہنیں اور ایک کزن ہلاک ہوگئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مظفر آباد سے صحافی اورنگزیب جرال نے بتایا کہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ہفتہ کو بعد دوپہر ضلع کوٹلی کے کھوئی رٹہ سیکٹر میں شہری آبادی پر گولہ باری شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین فوج مارٹر اور آرٹلری کا استعمال کررہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے ضلع بھمبر میں چھمب اور سماہنی سیکٹرز جبکہ وادی جہلم میں چکوٹھی سیکٹر میں بھی انڈیا اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماہنی سیکٹر میں اب تک چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چکوٹھی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع سکول بند کردیے گے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے دوران بھارتی فوج کی گولہ باری سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ورکنگ باؤنڈری پر اب تک 28 عام شہری، دس فوجی اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا مطابق بھارتی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی علاقوں سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انڈین فورسز نے ایل او سی کے بھمبر اور چکوٹھی سیکٹرز کو نشانہ بنایا، جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں 18 ستمبر کو ہونے والے اوڑی حملے کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کی کشیدگی کے باعث لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کا تبادلہ معمول بن چکا ہے جس میں کئی شہریوں سمیت کئی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں