قاہرہ: قبطی عیسائیوں کے کمپلیکس میں دھماکہ، 25 ہلاک

مصر، گرجا گھر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر میں قبطی مسیح آبادی مجموعی آبادی کا دس فیصد ہیں۔

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ میں قبطی عیسائیوں کے کمپلیکس میں ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 25 افراد ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ اتوار کو چرچ میں سروس کے دوران ہوا جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

٭ 'دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں 21 مصری قبطی عیسائیوں کی ہلاکت

دھماکے سے خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

دھماکہ قاہرہ میں سینٹ پیٹرز چرچ میں ہوا جو سینٹ مارکس کیتھڈرل کے ساتھ ہی کمپلیکس میں واقع ہیں۔

قبطی عیسائیوں کے روحانی پیشوا تواضروس دوم بھی سینٹ مارکس کیتھڈرل سے وابستہ رہے ہیں۔

مصر میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کئی بار مسیحی اکثریت کو نشانہ بنایا ہے۔

تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھے جانے والے مناظر کے مطابق گرجا گھر کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں اور چھت کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔

دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے کے قریب ہوا۔ مصر کے وزیر داخلہ نے قاہرہ کے سکیورٹی چیف کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر میں قبطی مسیح آبادی مجموعی آبادی کا دس فیصد ہیں۔

سینٹ مارکس کیتھیڈرل ملک میں مسیحی آبادی کا ہیڈ کوارئٹر سمجھا جاتا ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو ایک دھماکے میں چھ پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ پولیس کی چوکی پر ہونے والے اس حملے کا شمار گذشتہ چھ ماہ کے دوران دارالحکومت میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے مہلک ترین حملے میں ہوتا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری مصر میں ایک نئے شدت پسند گروہ ہاسم نے قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ مصر کے قبطی مسیحی اقلیت امتیازی رویہ روا رکھنے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس سے پہلے سنہ 2013 میں سینٹ مارکس کیتھیڈرل کے باہر ایک حملے میں اُس وقت دو افراد کو قتل کیا گیا تھا جب چار قبطی عیسائی مقامی آبادی سے جھگڑے میں ہلاک ہو گئے تھے اور اُن کے قتل کا سوگ منایا جا رہا تھا۔

رواں سال فروری میں مصر کی ایک عدالت نے توہین مذہب کے مرتکب قرار دیے گئے تین عیسائیوں کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ان تینوں لڑکوں کی ایک ویڈیو منطرِ عام پر آئی تھی جس میں وہ بظاہر نماز پڑھنے کی نقل کر رہے تھے لیکن ان لڑکوں کا دعویٰ تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی نقل کر رہے تھے جنھوں نے کئی افراد کو قتل کیا ہے۔

مصر میں سنہ 2013 کے بعد سے توہین مذہب کے کئی مقدمات سامنے آئے ہیں اور ان میں زیادہ تر مقدمات قبطی عیسائیوں کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں