فاٹا کےمسائل اجاگر کرنے کےلیے فورم کا قیام

فاٹا فورم

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور یہاں کئی عشروں پر محیط پسماندگی نے زندگی کے ہر شعبے کو تباہی کے دہانےپر لاکھڑا کیا ہے۔ بالخصوص تعلیم کی کمی اور صحت عامہ کی سہولیات کا فقدان ان علاقوں میں شدت پسندوں کو قدم جمانے کا جواز بھی فراہم کرتا رہا ہے۔

تاہم اب فاٹا سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹ، آراکین پارلمینٹ اور سیاسی رہنماؤں نے قبائلی علاقوں کے ان مسائل اجاگر کرنے کےلیے ایک فورم تشکیل دیا ہے جس کا مقصد ان مشکلات کا قابل حل تلاش کرنا ہے۔ رزمئین سوسائٹی کے نام سے اس فورم میں اکثریت رزمک کیڈٹ کالج شمالی وزیرستان سے فارغ التحصیل ہونے والے افسران اور سیاسی رہنماؤں کی ہے۔ رزمئین سوسائٹی کے ممبران نے گزشتہ روز گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا سے ملاقات کی اور انہیں اپنے تجاویز سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے منتخب پارلمینٹرین نے بھی شرکت کی۔

سوسائٹی کے فوکل پرسن ڈاکٹر عابد رؤف عرف ملنگ فقیر نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال تو بحال ہوگئی ہے لیکن وہاں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا قیام پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک انتہائی پسماندہ رہا ہے جبکہ رہی سہی کسر شدت پسندی اور کروائیوں نے پوری کردی ہے جس سے بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'جس طرح پہلے پسماندگی اور محرومی کی وجہ سے فاٹا میں شدت پسندی کو پروان چھڑانے کا موقع ملا اس طرح اب بھی یہ خطرہ ٹلا نہیں اگر حکومت نے توجہ نہ دی تو وہاں پھر سے حالات خراب ہونے سے کوئی روک سکتا۔

ملنگ فقیر کے مطابق کئی سال پہلے تمام قبائلی ایجنسیوں میں کیڈٹ کالجز کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کام نہیں ہوا ہے اور اس طرح صحت کے اداروں کا بھی شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فورم نے انہی مسائل کی نشاہدہی کےلیے ملکی سطح پر ایک قومی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے تمام تر تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس کانفرنس میں بین الاقوامی امدادی اداروں کو بھی دعوت دی جائیگی تاکہ وہ فاٹا کی ترقی میں حکومت کا ساتھ دیں۔

اسی بارے میں