سندھ میں 94 مدرسوں پر پابندی کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث 94 مدارس پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 10 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں جن میں سے 7724 فعال ہیں اور ان میں ساڑھے پانچ لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں 818 غیر ملکی ہیں۔

اس سے قبل صوبائی ایپکس کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں بتایاگیا تھا کہ سندھ میں 50 مدراس کی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں جن کی آگاہی انیٹلیجنس اداروں، پولیس اور ریجنرز کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ ان مدارس میں سے 27 کراچی،12 حیدرآباد، 4 لاڑکانہ، 6 سکھر اور ایک گھوٹکی میں واقع ہے۔

سندھ کی ایپکس کمیٹی کو پیر کے روز صوبائی سیکریٹری داخلہ شکیل منگنیجو نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان 20 نکات میں سے 11 کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے، سندھ میں پلان پر عملدرآمد کے لیے اپیکس کمیٹی کے 18 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق سیکریٹری داخلہ شکیل منگنیجو نے اجلاس کو بتایا کہ سات مزید مشکوک افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا جبکہ 581 افراد پہلے ہی فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے آغاز سے لےکر اب تک صوبے میں سنگین مقدمات سمیت 16 ملزمان کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی اور 13 مزید قیدیوں کو ملٹری کورٹس کی جانب سے سزائے موت کی سزا دی گئی ہے مگر اب تک کسی سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سزائے موت کی سات اپیلیں مسترد کی جا چکی ہیں اس کے علاوہ 6 اپیلیں ہائی کورٹ اور ایک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ بقایا چھ جی ایچ کیو میں زیر التوا ہیں۔

’سندھ حکومت نے فوجی عدالتوں کے لیے وزارت داخلہ کو 105 مقدماتکی سفارش کی تھی جن میں سے صرف 29 کو ٹرائل کے لئے ملٹری کورٹس کو بھیجا گیا۔‘

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کر روکنے کے لیے سخت اقدامات کئے ہیں اور زبردستی فطرانہ اور کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اس کے علاوہ محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے آڈٹ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔

’دہشت گردوں کی مالی معاونت کے سات مقدمات رجسٹرڈ کیے گئے اور 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کاﺅنٹر ٹیررازم فورس قائم کی گئی ہے جو کہ 2000 اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس کے لیے اب تک 700 اہلکار بھرتی کئے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ اینٹی ٹیررزم فنانسنگ یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے اور ایکسپلوزیو لیب اور کینین یونٹ بھی قائم کیا جارہاہے۔

اجلاس کو قانون سازی پر ہونے والی پیشرفت پر بتایا گیا کہ متعدد بلز مثلاً ہندو میرج ایکٹ ، زبردستی شادی کا بل تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے مذہبی مقامات پر نگران کیمرے بھی نصب کئے جانے ہیں جس کے لیے 400 ملین روپوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔

رینجرز کی کارکردگی سے متعلق اپیکس کمیٹی کو بتایا گیا کہ ستمبر 2013سے رینجرز نے 8849 کومبنگ آپریشن کئے اور 6892 مجرموں کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا۔ جن میں 1493دہشت گرد،975 ٹارگیٹ کلرز ،440 بھتہ خوروں ، 116 اغوا کاروں کو گرفتار کیا گیا اور ان سے 151یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا۔

کور کمانڈر کراچی نے اپیکس کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کومبنگ آپریشن کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کرینگے اور نئے بھرتی ہونے والے پولیس فورس کی تربیت میں بھی مدد فراہم کی جائیگی اس کے علاوہ وہ ڈی ایچ اے کے ساتھ بھی فرانزک لیب کے لیے زمین حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

سیکریٹری داخلہ شکیل منگنیجو نے اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں بین الاقوامی تنظیم نمبیو نے کرائم اور سیفٹی انڈیکس میں کراچی کو چھٹے نمبر پر رکھا تھا مگر آج یہ 31ویں نمبر پر آگئی ہے اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس کا کریڈیٹ اس فورم کو جاتا ہے جس نے منصوبہ بندی کی اور ٹارگٹیڈ آپریشن میں تعاون کیا اور دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خوروں اور اغوا کنندگان کا خاتمہ کیا ۔