راحیل شریف نے کوئی درخواست نہیں دی: خواجہ آصف

  • 12 جنوری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سابق آرمی چیف کی طرف سے این او سی کے لیے اب تک کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کی کمان پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کے ہاتھوں میں دیے جانے کی خبروں پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے آج ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'سابق آرمی چیف کی طرف سے این او سی کے لیے اب تک کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔اگر اس طرح کی کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو حکومت قابلِ اطلاق قاعدے اور قوانین کے تحت فیصلہ لےگی'۔

خارجہ امور پروزیرِ اعظم کے مشیرسرتاج عزیز نےایوان کو بتایا کہ'نہ ہی ایسی کوئی پیشکش آئی ہے اور نہ اس کےامکانات ہیں۔کوئی ایسی صورتحال بنی تواس کےخارجہ پالیسی پر اثرات پر بیان دیں گے'۔

اس پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے خواجہ آصف سے استفسار کیا کہ جنرل راحیل شریف نے وزارت سے تو اجازت نہیں مانگی، لیکن کیا انہوں نےاپنے متعلقہ ادارے یعنی آرمی سے اجازت مانگی ہے؟

راحیل شریف 39 ممالک کے فوجی اتحاد کی سرابراہی کرینگے

خواجہ آصف نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ'میڈیا میں جو کہا جارہا ہے وہ اُس ایجنڈے پرنہیں، بلکہ سعودی حکومت کی دعوت پر عمرے کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔عمرے پر جانے کے لیے انہوں نے اجازت طلب کی تھی اور پرسوں شام وہ واپس آچکے ہیں۔ انہوں نے واپس آ کے نہ وزرات دفاع اور نہ ہی جی ایچ کیو سے رابطہ کیا کہ مجھے کوئی پیشکش ہوئی ہے یا کسی پیشکش کے لیے میں آپ کی اجازت مانگ رہا ہوں'۔

خواجہ آصف نے ریٹائرڈ فوجیوں کےحکومتی اداروں میں ملازمت کے بارے میں متعلقہ قواعد اور وزارتِ دفاع کے26 فروری 1998 کےایک سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئےایوان کو بتایا کہ'موجودہ قوانین کے تحت وزارتِ دفاع سےاین اوسی درکار ہوتی ہے اور یہ قواعد بنیادی طور پر ریٹائرڈ آرمی افسروں کے دیگر حکومتی اداروں میں ملازمت کے لیے بنائے گئے تھے جیسے کے سفارتکار ، کسی کارپوریشن کا سربراہ یا مشیراور کنسلٹنٹ کےطور پر۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر سابق آرمی چیف کی جانب سے ایسی کوئی درخواست آتی ہے تو ایوان کو آگاہ کیاجائے۔

خواجہ آصف نےکہا کہ اُن کےخیال میں اگر انہیں ریٹائرمنٹ کےبعد پاکستان میں وزارتِ دفاع کی این اوسی کی ضرورت ہے تو بیرونِ ملک کے لیے اسی وزارت کی این او سی کی ضرورت ہوگی۔

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے وزیرِدفاع خواجہ آصف سے کہا کہ اگر سابق آرمی چیف کی جانب سے ایسی کوئی درخواست آتی ہے تو ایوان کو آگاہ کیاجائے۔

وزیرِ دفاع کے پالیسی بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ’پارلیمان کےمشترکہ اجلاس میں اس اتحاد میں کسی بھی طرح سے شمولیت سے انکار کیا گیا تھا تو فاضل وکیل صاحب کو اس اجلاس کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیئے کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جوفیصلہ ہوا اُس کی رو کےمطابق حکومت کا یہ فیصلہ ہے کہ اس کی اجازت نہیں دے گی۔ اس بارے میں واضح بیان دیا جاناچاہیےتھا۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابرنے 39 ممالک کے اسلامی اتحاد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’بظاہر تو یہ اتحاد دہشت گردی کےخلاف جنگ کے لیے بناہے لیکن اس میں اہلِ تشیع کےتناظر میں جن چار ممالک کو الگ رکھنے کی وجہ سےاسے فرقہ پر مبنی اتحاد قراردیا جاہا ہے۔‘

انھوں نےایوان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی تعیناتی کے بہت غلط مضمرات سامنے آئیں گے۔ ’کل کو خدا نخواستہ اگر ایران تین چار ممالک کو ملا کےایسا کوئی اتحاد بنائےاور پاکستان سے کوئی تھری اسٹار جنرل ریٹائر ہو جو اُن کو منظور ہو تو اس کے بہت دور رس مضمرات سامنے آئیں گے۔‘

البتہ سینٹر تاج حیدر نے کہا کہ’جب میڈیا میں جنرل راحیل کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی باتیں آئیں تھیں تو انھوں نے ایک بیان کے زریعے واضح کردیا تھا۔ اب بھی خود ایک بیان دے کے اس مسئلہ کو کلیئر کردیں۔‘

ان کی بات کےدرمیان میں سینیٹر رضا ربانی بولے کہ اب وہ وزیرِ دفاع کے تحت کام نہیں کرتے اور اب وہ ایک آزاد شہری ہیں۔`

واضح رہے کہ حال ہی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو دہشت گردی کے خلاف 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ بنائے جانے کی تصدیق کی تھی جس پر میڈیا میں کافی تبصرے ہوئے البتہ پیرکو سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے اس معاملے پر پالیسی بیان دینے اور اس فیصلے کےخارجہ پالیسی پر اثرات کو وضع کرنے کےاحکامات دیے تھے۔

اسی بارے میں