کم جونگ نام کی ہلاکت، ملائیشیا میں مشتبہ خاتون گرفتار

کم جونگ نام تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کم جونگ نام شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم جونگ ال کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے

ملائیشیا کے حکام نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کی موت کے سلسلے میں پولیس نے ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون کو کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا ہے جہاں شبہ ہے کہ کم جونگ نام کو زہر دیا گیا۔

اس خاتون کے پاس ویتنام کے سفری دستاویزات ہیں۔ ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مزید مشتبہ افراد کی تلاش میں ہیں۔

* شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کوالالمپور میں ہلاک

شمالی کوریا کے رہنما کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی عمر 45 برس تھی اور انھیں پیر کو ملائیشیا کے دارالحکومت کولالمپور کے ہوائی اڈے پر بظاہر زہر دیا گیا جس سے ان کی ہلاکت ہوئی۔

ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے تاہم سرکاری طور پر اس کی کوئی بھی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

جنوبی کوریا کے نگران صدر ہوانگ کیوآہن کا کہنا ہے کہ اگر اس کارروائی میں شمالی کوریا ملوث پایا گیا تو اس سے اس کی 'بربریت اور غیر انسانی فطرت' ظاہر ہو گی۔

ملائیشیا کی سرکاری نیوز ایجنسی برنامہ نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں ایک خاتون کو کوالالمپور ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گيا ہے۔

ملائیشیا نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ مرنے والا شخص کم جونگ نام ہے کیونکہ وہ 'کم چول' کے دوسرے نام سے سفر کر رہے تھے۔

لیکن جنوبی کوریا کی حکومت نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ مرنے والا کم جونگ نام ہی ہے اور خفیہ ایجنسی نے حکومت کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں کم کو زہر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم جونگ نام پر مبینہ طور پر کولالمپور ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا

شمالی کوریا نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے لیکن کوالالمپور میں شمالی کوریا کے سفارتخانے کے عملے کو ہسپتال آتے جاتے دیکھا گیا ہے جہاں کم جونگ نام کی لاش لے جائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کم جونگ نام پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ طیارے پر سوار ہونے والے تھے لیکن ان کی موت کا اعلان منگل کو ہی کیا گیا۔

ملائیشیا کے پولیس چیف داتک سری ابو صمد نے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم جلد ہی پورا کر دیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شمالی کوریا نے لاش کو لینے کا دعوی کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ سرکاری طور پر ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے۔

پولیس سکیورٹی کیمرے کے فوٹیج کا بھی معائنہ کر رہی ہے۔ میڈیا میں دو خواتین کی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو کم جونگ نام کے آس پاس نظر آ رہی تھیں اور جنھیں بعد میں ایک ٹیکسی میں جائے حادثہ سے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

خیال رہے کم جونگ نام شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم جونگ ال کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا کے حکام سے صحافیوں نے بات کرنے کی کوشش کی

اگر اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ کم جونگ نام کی ہلاکت میں شمالی کوریا ملوث ہے تو یہ سنہ 2013 کے بعد شمالی کوریا کی قیادت کے ہاتھوں سب سے زیادہ ہائی پروفائل موت ہو گئی۔

کم جونگ نام کے چچا چانگ سونگ تھائک کو سنہ 2013 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

کم جونگ نام سنہ 2001 میں جعلی پاسپورٹ پر جاپان میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔

انھوں نے جاپانی پولیس کو بتایا تھا کہ وہ ٹوکیو کا ڈزنی لینڈ دیکھنا چاہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے والد کی نظروں میں ان کی وقعت کم ہوگئی تھی۔

سنہ 2011 میں والد کی وفات اور اپنے چھوٹے بھائی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کم جونگ نام نے اپنا زیادہ وقت مکاؤ، سنگاپور اور چین میں گزارا۔

2011 میں جاپانی میڈیا میں ان کا ایک بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ وراثتی حکمرانی کے حق میں نہیں۔

اسی بارے میں