’خطرے کے نشان کو چھوتی ہوئی کشیدگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 35 سال قبل اس کو امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا

ساؤتھ چائنا سی (جنوبی بحیرہ چین) میں 'فریڈم آف نیویگیشن' یا جہاز رانی کی آزادی کے نام پر امریکی طیارہ بردار جہاز کارل ونس کی گشت سے چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی خطرے کے نشان کو چھونے لگے گی۔

چین سے تعلق رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی فوج کی اس طرح کی کارروائیوں سے خطے میں حادثاتی طور پر جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔

امریکی بحریہ کے تھرڈ فلیٹ سے تعلق رکھنے والا یہ طیارہ بردار جہاز دس فروری کو مغربی بحرالکاہل کے جزیرے گوام پہنچا تھا۔ اس طیارہ بردار جہاز پر F 18 طیاروں سمیت ساٹھ طیارے موجود ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس امریکی جہاز جسے جاپان میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس رونلڈ ریگن کی مدد بھی حاصل رہے گی اس کے ساؤتھ چائنا سی میں گشت کی نوعیت اور وسعت کیا ہو گی۔

لیکن ایک بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ساؤتھ چائنا سی جہاں سے ہر سال پانچ کھرب ڈالر مالیت کا تجارتی مال گزرتا ہے وہاں امریکی بحریہ کے گشت کو چین اشتعال انگیزی کی شکل میں دیکھ رہا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں وزیر خارجہ کے اہم عہدے پر فائز ریکس ٹلرسن نے اپنی نامزدگی کی توثیق کے لیے کانگرس کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ساؤتھ چائنا سی میں بنائے گئے ان جزائر تک چین کی پہنچ کو روکنا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس طیارہ بردار جہاز پر ساٹھ طیارہ موجود ہیں

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے امریکی طیارہ بردار جہاز کے ساؤتھ چائنا سی میں گشت کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین بین الاقوامی قوانین کے تحت دوسرے ملکوں کے اس خطے میں بحری اور فضائی حقوق کی پاسداری کرتا ہے لیکن کسی بھی ملک کی طرف سے جہاز رانی کی آزادی کے بہانے اپنی خودمختاری اور سکیورٹی کے خلاف کوئی اقدام برداشت نہیں کرے گا۔

چین ساؤتھ چائنا سی کے تقریباً تمام حصے پر جن میں چین کے ساحل سے آٹھ سو میل دور یہ جزائر بھی شامل ہیں ان پر اپنی ملکیت کا دعویدار ہے۔

چین نے گذشتہ ہفتے ہی اس خطے میں اپنی بحری مشقیں مکمل کی ہیں جس میں اس کے طیارہ بردار جہاز نے بھی حصہ لیا اور جس کی وجہ سے خطے کےدوسرے ملکوں میں تشویش بھی پائی جاتی تھی۔

امریکہ کے مطابق چین نے سنہ 2014 سے اب تک سپارٹلی جزائر میں تین ہزار ایکڑ زمین سمندر سے نکال لی ہے۔

اس سمندر میں امریکی بحریہ کی نقل و حرکت کوئی اتنی غیر معمولی بات بھی نہیں ہے۔ ایک سال قبل یو ایس ایس جان سی سٹینس نے اس طرح کا چکر لگایا تھا۔ کارل ولس اس سے قبل2015 میں بھی اس خطے میں آ چکا ہے۔ 35 سال قبل امریکی بحریہ میں شامل کیے جانے کے بعد سے اب تک یہ جہاز اس خطے میں 16 آپریشن کر چکا ہے۔

امریکی بحریہ کے مطابق گذشتہ ہفتے ایک لڑاکا بحری جہاز یو ایس ایس کوروناڈو جو عارضی طور پر سنگاپور میں لنگر انداز ہے اس نے بھی ساؤتھ چائنا سی کے اسی علاقے میں تربیتی آپریشن کیے تھے۔

اسی سمندر میں گزشتہ برس چینی بحریہ نے ایک امریکی بحری ڈرون کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ امریکہ نے کہا تھا اس کا یہ بحری ڈرون سمندری سطح کے سروے کے مشن پر تھا۔ امریکی کی درخواست پر چند دن بعد چینی حکام نے یہ ڈرون امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

ایسی کارروائیوں سے کس حادثاتی جھڑپ یا لڑائی شروع ہونے کے امکان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے چینی تجزیہ کار ساؤتھ چائنا سی میں نگرانی کرنے والے ایک چینی طیارے اور ایک امریکی طیارے کی آپس میں ٹکر سے بال بال بچ جانے کے واقع کا حوالہ دیتے ہیں۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ساؤتھ چائنا سی کا یہ حصہ اکیسویں صدی کے 'بحری سلک روٹ' یا بحری شاہراہِ ریشم کی اہم کڑی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان طیاروں میں جدید قسم کے لڑاکا طیارہ بھی شامل ہیں

اخبار کا کہنا تھا کہ طیارہ بردار جہاز اس خطے میں بھیج کر نئی امریکی انتظامیہ اشتعال انگیزی اور خطے کے ملکوں اور چین کے درمیان خیلج پیدا کرنا چاہتی ہے۔

اخبار کے خیال میں اس سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گی اور اس سے دونوں ملک کی افواج کے درمیان تصادم بھی ہو سکتا ہے۔