پی ایس ایل: شاداب خان مستقبل کے بارے میں پرامید

شاداب خان
Image caption شاداب خان نے پاکستان اے کی جانب سے انگلینڈ اور زمبابوے کے دورے میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا

پاکستان سپر لیگ کو نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ اس بار بھی اس میں متعدد نوجوان باصلاحیت کرکٹرز حصہ لے رہے ہیں جن کے بارے میں ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی کرکٹ کا مستقبل ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے 18 سالہ رائٹ آرم لیگ سپنر شاداب خان بھی انھی کرکٹرز میں سے ایک ہیں جنھیں پاکستان کی انڈر 19 ٹیم اور پھر پاکستان اے کی جانب سے کھیلنے کے بعد اب پاکستان سپر لیگ میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا ہے۔

اب شائقین کے لیے کرکٹ، ٹیم میں واپسی کے لیے نہیں: آفریدی

175 رنز کے تعاقب میں آفریدی کی نصف سنچری رائیگاں، کراچی کنگز کی دوسری جیت

'انڈر 19 کرکٹ درحقیقت کسی بھی کرکٹر کے لیے بنیادی مرحلہ ہوتی ہے، مجھے بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع ملا جہاں میری کارکردگی اچھی رہی اور میں نے 11 وکٹیں حاصل کی تھیں اس کارکردگی نے میرا حوصلہ بڑھا دیا تھا۔'

شاداب خان نے پاکستان اے کی جانب سے انگلینڈ اور زمبابوے کے دورے میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

'میں نے انگلینڈ میں پاکستان اے کی جانب سے سری لنکا اے کے خلاف ووسٹر میں اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز کیا تھا اس میچ میں میں نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 48 رنز بنائے تھے اوردوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں جب کہ زمبابوے میں کھیلے گئے دوسرے غیرسرکاری ٹیسٹ میں نو وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دسویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کی اپنی پہلی سنچری بھی سکور کی تھی۔'

اس سوال پر کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ وقت دور نہیں جب وہ پاکستانی ٹیم میں شامل ہو جائیں گے، شاداب نے کہا 'میں محنت پر یقین رکھتا ہوں اور اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ میں پاکستانی ٹیم میں کب شامل ہوں گا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔'

شاداب خان کا تعلق میانوالی سے ہے لیکن انھوں نے اپنی کرکٹ راولپنڈی میں کھیلی ہے۔

'میانوالی میں کرکٹ کی سہولیات نہیں ہیں۔ میں نے زیادہ تر کرکٹ گھر میں ہی بھائی کے ساتھ کھیلی۔ پھر ہم راولپنڈی منتقل ہوگئے جہاں میں نے کلب کرکٹ شروع کی۔ میرے کلب کے صدر سجاد بھائی نے میری بھرپور حوصلہ افزائی کی پھر صبیح اظہر اور مشتاق احمد نے میری بولنگ کو بہتر کرنے میں بڑی مدد کی۔'

یاسر شاہ کی طرح شاداب خان بھی آسٹریلوی شہرۂ آفاق شین وارن کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔

'میں نے ہمیشہ شین وارن کی بولنگ کو غور سے دیکھا ہے اور ان کی بولنگ سے سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ شین وارن کو پسند کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں جس وکٹ پر بھی کرکٹ کھیلی اس پر آؤٹ کیا ۔میرے پسندیدہ کرکٹر سٹیو سمتھ ہیں۔'

شاداب خان کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کھیل کر انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

'ٹی ٹوئنٹی یقیناً بیٹسمینوں کی کرکٹ ہے لیکن لیگ سپنر سٹرائیک بولر ہوتا ہے اور وہ رنز کی پروا کیے بغیر وکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور میرے لیے سینئیر کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنا اور تجربہ کار بیٹسمینوں کو بولنگ کرنا ایک اچھا تجربہ رہا ہے۔'

اسی بارے میں