معاملہ تو ’صوبائی‘ ہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں ایک مشاورتی میٹنگ کی

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار حساب کتاب کے بہت ماہر ہیں۔ میرے 'حساب' سے تو انھیں دراصل وزیرِ خزانہ ہونا چاہیے تھا۔

مثال آپ کے سامنے ہے۔

انھوں نے اسلام اباد میں ایک مشاورتی میٹنگ کے دوران بتایا کہ سالانہ 2000 دھماکے ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 700 ہو گئی ہے۔ اور یہ کہ ان 700 میں سے بھی 260 میں تو کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔

ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد تقریباً 2500 کلو میٹر لمبی ہے جہاں سے ہر سال 30000 اور 40000 کے درمیان لوگ بغیر کسی سفری دستاویز کے سفر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے بہتر اقدامات اٹھائے ہیں جن کی وجہ سے ہونے والی کامیابی کی کہانی آپ کے سامنے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے

انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ماضی میں ان کی وزارت نے متعدد سکیورٹی الرٹ جاری کیے تھے جن میں جیل پر حملے کا الرٹ بھی شامل تھا لیکن 'میں نے کبھی بھی ان کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش نہیں کی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ سیہون حملے کے بعد ان پر تنقید کی گئی حالانکہ اس کی سکیورٹی تو سراسر صوبائی معاملہ تھا لیکن پھر بھی 'مجھ پر تنقید کی گئی۔'

تو محترم نثار صاحب ہم آپ کے حساب کتاب کی قدر کرتے ہوئے اور اپنی دانستہ یا نادانستہ تنقید پر شرمندہ ہوتے ہوئے آپ سے معافی مانگتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اتنے زبردست سکیورٹی کے انتظامات کے بعد دہشت گردی کے واقعات اب تک 700 ہی تو ہوئے ہیں اور یہ کوئی اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اور اس میں بھی کئی جگہ کی سکیورٹی تو صوبائی معاملہ ہے اور آپ کا تو صوبے سے کوئی سروکار نہیں، اس لیے ایک اور مرتبہ معافی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لاہور میں پنجاب اسمبلی کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں پولیس کے دو اعلئٰ افسران بھی ہلاک ہوئے

260 کے قریب دہشت گردی کے واقعات میں تو کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا، اس لیے ایک اور معافی اور اگر خدا ناخواستہ مستقبل میں کوئی اور واقعہ کسی صوبے میں پیش آیا تو اس کے لیے پیشگی معافی۔ کیونکہ اپنی جگہوں کی سکیورٹی تو صوبائی معاملہ ہے۔

جی تو چاہتا ہے کہ آپ سے 700 مرتبہ معافی مانگوں لیکن جگہ ذرا کم ہے اور شاید یہ مسئلہ بھی وفاقی نہیں۔

لیکن آپ ہی ہمیں بتایئے کہ ہم کیا کریں۔ ہم نے ہر چیز تو بند کر دی ہے: بازاروں میں جانا، مزاروں پر جانا، مسجدوں اور کلیساؤں میں جانا، حتیٰ کہ ہم تو دہشت گردوں کے ڈر سے سیر کرنے بھی نہیں جاتے۔ پھر بھی آسانی سے مر جاتے ہیں۔ اب ہم وزیرِ داخلہ سے داخلی امور پر سوال نہ کریں تو کس سے کریں۔

صوبائی نہ صحیح ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داری تو آپ کی بنتی ہے نہ۔ یا اس کے لیے بھی ہم طالبان کو برا بھلا کہہ کر گزارا کر لیں۔ اور اگر انھوں نے بھی کہا کہ بھئی یہ تو صوبائی معاملہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیہون حملے میں ہلاک ہونے والے 13 سالہ ذیشان کے غمزدہ گھر والے

اسی بارے میں