اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری ادارے کی طرف سے دباؤ ڈالے جانے پر مستعفی

ریما خلف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریما خلف اقوام متحدہ کے اس کمیش کی سربراہ تھیں جو اٹھارہ عرب ملکوں میں معاشی اور سماجی ترقی کا مجاز ادارہ ہے

اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ اہلکار نے فلسطینوں کے ساتھ اسرائیل کے رویے کو نسل پرستانہ قرار دینے کے بارے میں ایک رپورٹ کو واپس لینے کے لیے ادارے کی طرف سے دباؤ ڈالے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل کے بارے میں یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے مغربی ایشیا کے معاشی اور سماجی کمیشن کی طرف سے شائع کی گئی تھی جس کی سربراہ اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری ریما خلف تھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پہلی رپورٹ تھی جس میں اسرائیل کو نسل پرست قرار دیا گیا۔

یہودی بستیوں پر تنازع ہے کیا؟

'اسرائیل یہودی ہو سکتا ہے یا پھر جمہوری'

ٹرمپ کا حل:'فلسطینی ریاست ڈمپ'؟

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے اپنے آپ کو اس رپورٹ سے علیحدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ رپورٹ اس کے مرتب کرنے والے کے خیلات کی عکاسی کرتی ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں خلف جن کا تعلق اردن سے ہے کہا کہ انھوں نے اپنا استعفیٰ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پیش کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیکریٹری جنرل ان پر رپورٹ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

اس رپورٹ کو گزشتہ روز جمعے کو ادارے کی ویب سائٹ سے ہٹا لیا گیا تھا۔ فرانسیسی خبرساں ادارے نے خلف کے حوالے سے کہا ہے کہ ’بلا شبہہ ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد شدید دباؤ ڈالیں گے۔‘

اسرائیل نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید احتجاج کیا تھا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسرائیل کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو نسل پرستانہ جرائم کا مرتکب قرار دینے سے پہلے انھوں نے بڑی جامع اور عالمانہ تحقیق کی ہے اور ان کے پاس بے انتہا ثبوت موجود ہیں جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید احتجاج کیا تھا

یہ کمیشن جو 18 عرب ملکوں میں معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا تھا اس کی طرف سے یہ رپورٹ بدھ کے روز شائع کی گئی تھی۔

سنہ 2014 میں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو قبول نہ کیا تو اسے نسل پرستانہ ملک قرار دیا جا سکتا ہے۔

فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات اسرائیل کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم نکتہ ہے۔

غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی سنہ انیس سو سڑسٹھ سے اسرائیل کے تسلط میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پانچ لاکھوں یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے بستیاں تعمیر کی ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں