یہودی کمیونٹی سینٹرز کو دھمکی: نوجوان گرفتار

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2017 میں یہودی برادریوں کے خلاف 120 دھمکیاں دینے کا الزام ہے

اسرائیلی پولیس نے اسرائیلی اور امریکی شہریت رکھنے والے ایک 19 سالہ نوجوان کو دنیا بھر میں یہودی کمیونٹی سینٹرز کے خلاف بم حملوں کی دھمکی دینے کے شک میں گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے جمعرات کی صبح جنوبی اسرائیل میں کارروائی کر کے اس نوجوان کو امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں واقع یہودی برادریوں کے خلاف حملوں کی دھمکی کے الزام میں گرفتار کیا۔

یہ گرفتاری اسرائیلی سائبر فراڈ پولیس اور ایف بی آئی کی مشترکہ تفتیش کا نتیجہ ہے۔

گذشتہ ماہ ایک امریکی سابق صحافی کو بھی ایسی ہی دھمکیوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفلیڈ نے جمعرات کے روز کہا کہ اس نوجوان کے عزائم واضح نہیں ہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق اس نوجوان نے اپنی فون کالز کا ماخذ چھپانے کے لیے درجنوں کیموفلاج ٹیکنالوجیز استعمال کیں۔

روزنفیلڈ نے کہا کہ 'انھوں نے عام فون استعمال نہیں کیا بلکہ وہ مختلف کمپیوٹر سسٹم استعمال کرتے رہے تاکہ پکڑے نہ جا سکیں۔'

اس نوجوان پر ڈیلٹا ایئر لائن کو دھمکیاں دینے کا بھی الزام ہے، جس کی وجہ سے 2015 میں ایک جہاز کو بم تلاش کرنے کے لیے ہنگامی طور پر اتارنا پڑا تھا۔

اسرائیل کے عوامی تحفظ کے وزیر گیلاڈ اردان نے پولیس کو اس گرفتاری پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا: 'ہمیں امید ہے کہ تفتیش سے یہودی اداروں کے خلاف حالیہ دھمکیوں پر روشنی ڈالنے میں مدد ملے گی، جن کی وجہ سے یہودی برادریوں اور اسرائیلی حکومت کے اندر شدید تشویش پیدا ہو گئی تھی۔'

اسی بارے میں