عورت نے چیخ نہ ماری، ریپ کا الزام خارج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس مقدمے کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنا آیا ہے

اٹلی کے وزیر انصاف نے ریپ کے ایک مقدمے کی دوبارہ تفتیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں عدالت نے ایک شخص کو اس لیے بری کر دیا تھا کہ عورت نے چیخ نہیں ماری تھی۔

اٹلی کے شہر تورن میں ایک عدالت نے گزشتہ ماہ اس بنا پر ایک شخص کو ریپ کے الزام سے بری کر دیا تھا کہ خاتون نے اپنے اس ساتھی کو کہا کہ 'بس' جو کہ اتنا شدید رد عمل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ان کے ساتھ ریپ کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس خاتون کو اب مرد کو بدنام کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

عدالت کے اس فیصلے پر ملک میں شدید عوامی رد عمل سامنے آیا ہے۔

حزب اختلاف کے ایک رکن پارلیمان اناگریزا کالابیرا نے کہا کہ ’آپ ایک سہمی ہوئی عورت کے رد عمل پر اسے سزا نہیں دے سکتے۔'

آنسا نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر انصاف اندریا اورلیندو نے وزارت کے ایک انسپکٹر کو سنہ دو ہزار گیارہ کے اس واقع کی تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایک مقامی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون ایک ہسپتال میں ملازم تھیں اور جس شخص پر انھوں نے الزام لگایا تھا ان کے بقول اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر وہ نہ مانیں تو وہ انھیں کام دینا بند کر دے گا۔

عدالت نے جب ان سے یہ دریافت کہا کہ انھوں نے زیادہ شدید رد عمل کا اظہار کیوں نہیں کیا۔ اس پر خاتون نے کہا کہ بعض اوقات صرف بس کہنا کافی ہوتا ہے۔ خاتون نے مزید کہا کہ انھوں نے پوری قوت سے انھیں نہیں روکا جیسا کہ انھیں کرنا چاہیے تھا وہ شاید اس لیے ایسا نہ کر سکیں کیونکہ انھیں ایک طاقت ور شخص کا سامنا تھا اور وہ اس کے آگے بالکل بے بس ہو گئیں تھیں۔

ملزم کو بری کرتے ہوئے جج نے کہا کہ اس خاتون کا رد عمل ایسا نہیں جو کہ اس صورت حال کا سامنا کرنے والی کسی خاتون کا ہو سکتا ہے۔ جج نے اس خاتون کے بیان کو غیر حقیقی قرار دیا اور کہا کہ ریپ نہیں ہوا ہے۔

ملزم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انھوں نے جنسی فعل کیا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ باہمی رضامندی سے ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں