پاکستان: ’خیبر پختونخوا میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے‘

پاکستانی بچے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد 20 سے 25 لاکھ تک ہے جو دیگر صوبوں سے کم ہے۔

صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ باقاعدہ سروے شروع کیا ہے جس میں معلوم کیا جائے گا کہ کتنے بچے سکول نہیں جاتے اور اس کے نتائج چند ماہ میں پیش کر دیے جائیں گے۔

’اتنے زیادہ بچےسکولوں سے باہر باعثِ ندامت ہے‘

54 لاکھ پاکستانی بچے سکول نہیں جاتے: یونیسکو

ملک کے مختلف علاقوں میں بعض بچوں کو حالات کم عمری میں ہی روزگار کے مسائل میں ڈال دیتے ہیں یہ بچے گلی کوچوں، بازاروں، چوراہوں اور ورکشاپوں پر دیکھے جاتے ہیں۔

پشاور کے بورڈ بازار میں بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جو سکول نہیں جاتے۔ ایسے ہی ایک مزدور بچے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہاں روزانہ 100 سے 300 روپے کما لیتے ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے۔

'میں دو ماہ تک سکول گیا، والد کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے جس کے بعد میں نے سکول چھوڑ دیا تھا۔ میں نے ہتھ ریڑھی لے لی اور مزدوری کرنے لگا میرے دو بھائی ہم سے الگ ہو گئے ہیں میں گھر کا خرچ چلاتا ہوں۔'

پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔ بعض کے گھر بھی نہیں ہوتے اور بعض مزدوری کے لیے بازاروں میں آ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان بچوں کو سکول لانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے دو سال پہلے 'گھر آیا استاد' کے نام سے مہم شروع کی تھی جس میں آٹھ لاکھ بچوں کو سکول داخل کرنے کا حدف مقرر کیا گیا تھا لیکن اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جہاں سرکاری سکول نہیں وہاں ووچر سسٹم کے تحت نجی سکولوں میں بچوں کو داخل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کا 800 روپے تک کاماہانہ خرچہ حکومت برداشت کرتی ہے اور ایسے بچوں کی تعداد 30,000 تک ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب پہلی مرتبہ حکومت نے سٹیرٹ چلڈرن کے بارے میں سروے شروع کیا ہے جس میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ کل کتنے بچے سکول نہیں جاتے اور اس کی وجہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سروے پاکستان میں پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے کیونکہ سٹریٹ چلڈرن کے بارے میں اب تک جو اعدد و شمار سامنے آ رہے ہیں وہ اندازوں کی بنیاد پر ہیں کوئی 25 لاکھ بتاتا ہے تو کسی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 20 لاکھ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس سروے کے بعد وے کوئی ٹھوس پالیسی بنائی جا سکے گی۔

عاطف خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سرکاری سکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ نجی سکولوں سے بچے سرکاری سکولوں میں داخل ہوئے ہیں اور اس کی وجہ ان کے وہ اقدامات ہیں جو انھوں نے تعلیم کی بہتری کے لیے کیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے سکول نہ جانے والے بیشتر بچے اپنے اپنے گھروں کے کفیل ہوتے ہیں اس کے لیے روایتی تعلیم سے ہٹ کر حکومت ان کے لیے فنی تعلیم کا انتظام کرے جس سے ان کے روزگار کے مسائل بھی حل ہو سکیں گے۔