وہ کون تھا؟ (تیسرا اور آخری حصہ)

تصویر کے کاپی رائٹ PA

سلیم اختر سے ڈیوڈ لٹن کی دوستی بہت پرانی بتائی جاتی ہے۔ انھوں نے حکام کو بتایا کہ وہ ڈیوڈ کو تقریباً 45 برس سے جانتے ہیں اور ان کی پہلی ملاقات 1970 کی دہائی کے شروع میں ہوئی تھی۔

تاہم انھوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ان کی دوستی ایک خاص نوعیت کی تھی جس میں ایک دوسرے کی نجی زندگی کے بارے میں دونوں کو کم کم ہی علم تھا۔

وہ کون تھا؟ (پہلا حصہ)

وہ کون تھا؟ (دوسرا حصہ)

انھوں نے بتایا کہ وہی ڈیوڈ کو پاکستان لے کر گئے تھے اور بعد میں انھوں نے ڈیوڈ کے ساتھ دو مرتبہ پاکستان کا سفر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیوڈ کو پاکستان کا رہن سہن اور موسم پسند آ گیا تھا اور اسی وجہ سے وہ وہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔

درحقیقت وہ سلیم اختر ہی تھے جنھوں نے 10 دسمبر 2015 کو ڈیوڈ لٹن کا ہیتھرو ایئرپورٹ پر استقبال کیا تھا۔ دونوں نے دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے ہی کھایا تھا اور وہی ڈیوڈ کو ایلنگ کے علاقے میں ٹریولاج ہوٹل پر چھوڑ کر ائے تھے جہاں ڈیوڈ نے پانچ روز کے قیام کے لیے ساڑھے تین سو پاؤنڈ ادا کیے تھے۔

جب پولیس نے پہلی بار ان سے رابطہ کیا تھا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈیوڈ لٹن نامی شخص ان کا دوست ہے۔ انھوں نے پولیس کو ڈیوڈ کے ہیتھرو آنے، دونوں کے اکٹھے کھانا کھانے اور ایلنگ کے ہوٹل پر ڈراپ آف کرنے کا بتایا تھا، لیکن ساتھ ہی کہا تھا کہ اس کے بعد کا انھیں کچھ پتا نہیں ہے۔

انھیں یہ پتا تھا کہ ڈیوڈ نے سیاحت کے لیے بیرون ملک جانے کی بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں ان کا کوئی پلان نہیں بنایا تھا تاہم ان کا خیال تھا کہ وہ دوبارہ ملیں گے۔

ڈیوڈ لٹن کی شناخت سامنے آنے کے بعد پاکستان میں تفتیش تیزی سے آگے بڑھنے لگی اور ان کے بارے میں پولیس کے سامنے کئی نئی تفصیلات آئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

پولیس کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ ڈیوڈ لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ایک آبادی میں رہتا تھا لیکن وہاں بھی اس کی شخصیت اسرار کے پردے میں اسی طرح لپٹی ہوئی تھی جس طرح اس کی زندگی کی کہانی اور موت کے واقعات پراسرار تھے۔

جس سرفراز دھوبی سے وہ کئی سالوں تک کپڑے دھلواتا رہا اس کو ڈیوڈ کے بارے میں صرف اتنا ہی پتا تھا کہ وہ گورا ہے اور کہیں پیچھے سے آتا ہے۔

'وہ میرے پاس اپنی پینٹیں اور شرٹس ڈرائی کلین کرانے آتا تھا۔ پہلے آتا اور لانڈری پھینک جاتا، پھر دو تین روز بعد آ کر پیسے ادا کرتا اور اپنے کپڑے لے جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔'

کمیونیکیشن کی اس کمی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دھوبی انگریزی سے نابلد تھا اور ڈیوڈ کو اردو اور پنجابی کا ایک لفظ تک نہیں آتا تھا۔ دونوں کے درمیان زیادہ تر معاملات اشاروں میں ہی انجام پاتے تھے اور اس کمیونیکشن میں ہاتھوں کی انگلیاں بہت کام آتی تھیں۔

کچھ یہی حال ان کے محلے میں رہنے والے نوجوان شایان اور علاقے کے موبائل سبزی فروش یونس کا بھی تھا جو صرف اتنا جانتے تھے کہ ڈیوڈ ایک فوجیوں کے طرح کے ڈسپلن کے ساتھ صبح دس بجے اور شام کو چار بجے ٹریک سوٹ اور جوگر پہن کر واک کو جاتا ہے اور دن کے دوسرے اوقات میں سفید شرٹ اور گہرے رنگ کا ٹراؤزر پہنے ہاتھ میں کتاب لیے مقامی انٹرنیٹ کیفے آتا جاتا نظر آتا ہے۔

ان کے ہمسائے البتہ ان کے بارے میں قدرے زیادہ معلومات رکھتے تھے کیونکہ ان سے ڈیوڈ کی بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ بلکہ ایک ہمسائے سے تو ان کے اس حد تک مراسم تھے کہ ان کے گھر سے وہ کھانا بھی کھا لیتے تھے۔

گذشتہ ماہ جب کورونرز کورٹ میں اس معاملے کی شنوائی ہوئی تو جج سائمن نیلسن نے اس پر کھلا فیصلہ دیا، جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس کیس سے متعلق زیادہ تر معاملات پر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس وقت تک کیس سے متعلق ہر ایک شخص کو یہ امید تھی کہ انکوئسٹ سے ڈیوڈ لٹن کے معمے کی گتھیاں سلجھیں گی اور اس بارے میں پائے جانے والے سوالوں کے جواب مِل پائیں گے لیکن چار گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہنے والی اس سماعت میں سوالوں کے جواب تو کیا ملتے، الٹا کئی نئے سوالات پیدا ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ ڈیوڈ لٹن سیڈل ورتھ کے بیوٹی سپاٹ پر کیوں گیا تھا؟ ان کے وہاں جانے کو کچھ لوگوں نے اسی مقام پر 1949 میں ہونے والے ایک فضائی حادثے سے جوڑا ہے لیکن، نہ تو پولیس اور نہ ہی کورونر، کوئی بھی اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آیا۔

اور تو اور اس کی ہلاکت کی وجہ پر بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کیا جا سکا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ان کے جسم میں سٹریٹنین کے موجودگی سے خود کشی کی تھیوری کو فروغ ملا لیکن بعد میں یہ بھی خیال کیا گیا کہ ہو سکتا ہے ڈیوڈ اسے ڈرگز کے ساتھ ملا کر کوئی تجربہ کر رہا ہو۔

اسی لیے جج نے اپنے فیصلے میں یہ تو لکھا ہے کہ ڈیوڈ کی موت اس کے اپنے ہاتھوں ہوئی ہے لیکن یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ وہ ایسا کرنا بھی چاہتا تھا۔ ظاہر ہے اگر اس نے خود کشی ہی کرنا ہوتی تو لندن واپسی کا ٹکٹ کیوں خریدتا، ایلنگ کے ہوٹل میں پانچ روز کا کرایہ کیوں ادا کرتا۔

ایک اور سوال اس کے اٹھارہ کلو وزنی سامان کا ہے جو وہ 25سی سیٹ کے پیسنجر کی حیثیت سے پی آئی اے کی پرواز 757 میں لایا تھا، جس میں اور چیزوں کے علاوہ اس کا پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات بھی تھے۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلمان ہو چکا تھا جیسا کہ اس نے اپنے پڑوسی اعجاز احمد کو بتایا تھا کہ اس نے 1996 میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کی گرل فرینڈ مورین ٹوگڈ نے بھی اس کے گھر میں دیگر کتابوں کے علاوہ قرآن مجید کے دو نسخے دیکھے تھے۔ ایک اس کے ڈرائنگ روم میں اور ایک گھر کی پہلے منزل ہر اس کے بیڈروم میں۔

لیکن اس کے ہمسائے نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ اس نے اسے کبھی بھی مسجد جاتے ہوئے نہیں دیکھا، اس لیے ہو سکتا ہے اس نے مسلمان ہونے کا دعویٰ ہمارے دیگر مذاہب کے لوگوں سے عمومی رویے کی وجہ سے کیا ہو کیونکہ ہم ان کو اپنے برتنوں میں کھانا نہیں کھانے دیتے۔

باقی رہی پاکستان میں ڈیوڈ لٹن کی زندگی، وہ تو ہنوز ایک سربستہ راز ہے اور شاہد ہمیشہ راز ہی رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں