انڈیا میں وی آئی پی گاڑیوں پر لال بتی لگانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئے قانون کے تحت صرف ہنگامی گاڑیوں جیسے کہ ایمبولنس، فائر ٹرک، یا پولیس کی گاڑیوں کو اس لائٹ کی اجازت ہوگی۔

انڈیا میں حکومت نے وزرا اور سینیئر حکام کی گاڑیوں پر لال بیکن یعنی ہنگامی لائٹ لگانے پر پابندی لگا دی ہے۔

وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ یکم مئی سے کسی گاڑی پر لال لائٹ نہیں ہوگی اور اس میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

نئے قانون کے تحت صرف ہنگامی گاڑیوں جیسے کہ ایمبولنس، فائر ٹرک، یا پولیس کی گاڑیوں کو اس لائٹ کی اجازت ہوگی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وی آئی پی لوگ اکثر اس لال لائٹ کو بطور ایک سٹیٹس سمبل کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات ہوتی ہیں۔

ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ حکومت وہ قانون بھی ختم کر رہی ہے جس کے تحت ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس بات کا تعین کریں کہ کس گاڑی پر لال لائٹ لگائی جا سکتی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے انڈیا میں وی آئی پی کلچر کو دھچکہ لگے گا جس میں سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں کو عام لوگوں پر ترجیح دی جائے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے حکومتی فیصلے کے بارے میں لوگوں کے بیغامات کے جواب ٹوئٹر پر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیر ٹرانسپورٹ نیتن گدکاری کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی بڑا جمہوری فیصلہ ہے۔‘

دلی میں وزیراعلیٰ ارویند کیجریوال نے اس حوالے سے 2015 میں پہل کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ ان کی گاڑی پر لال لائٹ نہیں ہوگی۔

اس سے قبل 2013 میں انڈیا کی سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ صرف وہ اہلکار جن کے پاس آئینی عہدے ہیں جیسے کہ وزیراعظم ،صدر، کابینہ کے اراکین اور سینیئر ججز کو گاڑیوں پر لال لائٹ لگانے کی اجازت ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں