’مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل سے قبل ہی مسترد‘

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے پاناما مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو سنایا

پاناما مقدمے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا ہے وہ وجود میں آنے سے قبل ہی متنازع ہو گئی ہے اور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس کو یک زبان ہو کر رد کر دیا ہے۔

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے پاناما کیس میں جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کو مشترکہ طور پر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'جے آئی ٹی بنانی ہے تو سپریم کورٹ کے تین ججوں یا ہائی کورٹ کے چاروں ججوں کی جے آئی ٹی بنائی جائے'۔

’پاناما ون ختم، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے‘

پارلیمان میں ہنگامہ اور واک آؤٹ، پی ٹی آئی پھر سڑکوں پر

جے آئی ٹی کی تشکیل کو مسترد کرنے کا فیصلہ جمعہ کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کی۔

اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کے بعد عمران خان نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارے کیسے وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کریں گے۔

'سپریم کورٹ نے فیصلے میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ ایک طرف سپریم کورٹ پہلے کہہ چکی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، ان کو وزیر اعظم کنٹرول کرتا ہے اور یہ وزیراعظم کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ اگر ان اداروں نے کام کرنا ہوتا تو اب تک وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کر چکے ہوتے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو ججوں نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کی تجویز دی جبکہ تین نے ان دو ججوں سے متفق نہیں کیا اور ایک چیز ڈال دی جو جے آئی ٹی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس جے آئی ٹی سے متفق نہیں ہیں کیونکہ جس قسم کی جے آئی ٹی بنائی ہے وہ 'ہمارے لیے شرم کی بات ہے'۔

'تین مہینوں تک سپریم کورٹ نے ایف آئی اے اور نیب سمیت دیگر اداروں کو تہس نہس کیا اور برا بھلا کہا۔ اور بعد میں 19 گریڈ کے افسر کو کہا گیا کہ اپنے مالک کی اور جس سے تنخواہ لیتے ہو ان کی تحقیقات کرو۔ خدا کو مانو یہ کون سی انویسٹی گیشن ہو گی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انھیں یہ جے آئی ٹی قبول نہیں ہے۔ 'جے آئی ٹی بنانی ہے تو سپریم کورٹ کے تین ججوں یا ہائی کورٹ کے چاروں چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ ایف آئی اے کا ایڈیشنل ڈائریکٹر کیا تفتیش کرے گا وہ تو وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ماتحت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر ایک رکن نامزد کرے گا۔ 'وہ کیا نامزد کرے گا گورنر سٹیٹ بینک کا گورنر تو شریف خاندان کے گھرانے کا ایک فرد ہے۔ ایس ای سی پی کا چیئرمین ان کا اپنا لگایا ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کے ساتھ ان کا تعلق خاندانی ہے۔ 19 اور 20 گریڈ کے افسران وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی کیا تحقیقات کری گے۔ ہم اس جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں۔'

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ 'ہمارا اور مشترکہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے نواز شریف استعفیٰ دیں، اخلاقی تقاضا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں، کیونکہ اگر وہ اس بڑے عہدے پر رہتے ہیں تو تحقیقات کیسے ہوں گی؟'

سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ تمام جماعتیں حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنائیں۔

اسی بارے میں