’ضروری نہیں ہے کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق تفصیلی فیصلہ وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادوں کو بھجوا دیا ہے جبکہ دوسری طرف حکمران جماعت کے چیئرمن راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ وزیر اعظم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے آگے پیش ہوں۔

٭’نواز شریف اور ان کے بیٹے تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں‘

سپریم کورٹ نے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپیاں اس مقدمے میں وزیر اعظم سمیت مقدمے کے تمام فریقین کو بھجوا دی ہیں۔ یہ درخواستیں عمران خان، سراج الحق، شیخ رشید احمد اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے دائر کی تھیں۔

اس کے علاوہ ان اداروں کے سربراہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ سات روز میں مشترکہ تحقیقیاتی ٹیم میں شمولیت کے لیے اپنے افسران کے نام بھجوائیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کے علاوہ نیب، سٹیٹ بینک، سیکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں ملٹری انیلیجنس اور آئی ایس آئی کے اہلکار شامل ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راجہ ظفر الحق مسلم لیگ کے سینئیر رہنما ہیں

اس فیصلے میں عدالت عظمی نے وزیر اعظم اور ان کے دونوں صاحبزادوں کو ان کی بیرون ملک جائیداد کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ وزیر اعظم مشترکہ تحقیقیاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں ۔

پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وکلا بھی اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں۔

دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کی جائیداد کے لیے مشترکہ تحقیاتی ٹیم بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا مشترکہ فیصلہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بعض سیاست دان سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنے الفاظ میں تشریح کر رہے ہیں جو درست نہیں ہے۔

اُنھوں نے حزب مخالف کی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ان درججز کی تعریف کرر ہے ہیں جنہوں نے پاناما سے متعلق فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا جبکہ باقی تین ججز کے بارے میں وہ اچھی رائے نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے 60 روز کے اندر اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مشترکہ تحقیاتی ٹیم عمل میں لائی جائے گی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عمران خان کو سپریم کورٹ میں جانے سے پہلے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ ایف آئی اے کے جس افسر سے تفتیش کروانا چاہتے ہیں تو حکومت اس کے لیے تیار ہے لیکن وہ نہیں مانے اور اب سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے کے ہی افسر کے سربراہی میں ایک مشترکہ تحققیاتی ٹیم بنائی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "یہ قیامت کی نشانیاں ہیں کہ آصف علی زرداری کرپشن کے معاملے پر لوگوں کو لیکچر دے رہے ہیں"۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر کو کسی کو صادق اور امین کی ڈگری جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں