’اس نوٹس سے تمام طالبات کی عزت نفس مجروح ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طالبات کا کہنا ہے کہ اس نوٹیفیکیشن میں صرف انہی کو مخاطب کیا گیا ہے جبکہ لڑکے بھی ہاسٹل میں رہتے ہیں۔

اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طرف سے لڑکیوں کے ایک ہی بستر پر سونے کو ممنوع قرار دیے جانے کے نوٹیفیکیشن کی ہوسٹل ہی میں رہنے والی لڑکیوں نے شدید مذمت کی ہے۔

ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ 'اس نوٹس سے تمام طالبات کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن سوشل میڈیا پر اس قدر شیئر کیا گیا کہ مجھے اپنے والدین اور دوست احباب نے فون کر کے اس بارے میں پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ سب کیا ہے؟'

چند دن قبل جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں ہوسٹل میں رہنے والی طالبات کو اپنے بستروں کے درمیان 'کم از کم دو فٹ کا فاصلہ رکھنے' کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والی لڑکیوں کو بھاری جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

نوٹیفیکیشن میں طلبہ کو تاکید کی گئی کہ کوئی بھی لڑکی اپنی سہیلی یا بہن کے ساتھ سوتے ہوئے یا ایک ہی کمبل یا چادر میں بیٹھی ہوئی پائی گئی تو اُس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

بی بی سی کی نامہ نگار صبا ناز نے اس نوٹس کے حوالے سے جب یونیورسٹی کی کچھ طالبات کے ساتھ بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس کی لفاظی پر اعتراض ہے۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ تر لڑکیوں نے امتیازی سلوک کی شکایت بھی کی۔

طالبات کا کہنا ہے کہ اس نوٹیفیکیشن میں صرف انہی کو مخاطب کیا گیا ہے جبکہ لڑکے بھی ہاسٹل میں رہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہر معاملے میں اُن کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا 'اس نوٹس کا اطلاق صرف لڑکیوں ہی پر ہوتا ہے جبکہ لڑکے اس سے مبرا ہیں۔ یہ نا انصافی ہے کہ صرف لڑکیاں ہی ہر معاملے میں نشانہ بنتی ہیں۔'

اسلامک یونیورسٹی کے ہوسٹل میں مقیم انجینیرنگ کی طالبہ تانیہ تیمور نے، جو کسی حد تک انتظامی اُمور بھی سنبھالے ہوئے ہیں، انتظامیہ کے دفاع میں کہا 'اس نوٹیفیکیشن کی ورڈنگ ڈائریکٹ تھی جسے اس طرح سے مینیو پلیٹ کیا گیا کہ اس کا منفی اثر پڑا۔ یہ نوٹس صرف مہمانوں کو ہوسٹلز سے دور رکھنے کے لیے تھا جس سے باقی طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوتی تھی۔ نوٹیفیکیشن کے بعد اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے۔'

بی بی سی نے اس نوٹس کے متعلق بات کرنے کے لیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ سے ملنے کے لیے متعدد کوششیں کیں لیکن انتظامیہ کے اہلکاروں نے ملنے سے انکار کر دیا۔

متعلقہ عنوانات