’پیپلز پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی اپنی تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے پنجاب کے جنرل سیکریٹری ندیم افضل چن نے پیپلز پارٹی میں مزید ٹوٹ پھوٹ اور اہم ارکین کے پارٹی کو چھوڑنے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پارٹی اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کر رہی ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مقامی اخباروں میں گردش کرنے والی ان خبروں کی تردید کی جن کے مطابق پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کی طرف سے فیصل صالح حیات کو پی پی پی پارلیمنٹرین کا نائب صدر نامزد کیے جانے سے پارٹی دوسرے درجے کی قیادت میں مایوسی اور بددلی پھیل رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پارٹی اس وقت واضح طور پر دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے جس میں ایک طرف تو پارٹی کا وہ ڈھانچہ ہے جو ملک بھر میں مقامی سطح کی تنظیموں اور کارکن سے طویل مشاورتی عمل کے بعد کھڑا کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پی پی پی پی کا ڈھانچہ ہے جسے سابق صدر آصف علی زرداری تشکیل دے رہے ہیں۔

فیصل صالح حیات جن کی پاکستان پیپلز پارٹی سے طویل وابسگتی تھی انھوں نے صدر مشرف کے دور میں پارٹی کو درجن بھر دوسرے پارٹی ارکان کے ساتھ چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی پیٹرایٹ کے نام سے دوسری پارٹی تشکیل دے دی تھی۔ اس کے عوض میں انھیں اور ان کے چند اور رفقا کو وزارت بھی ملی۔

ندیم افضل چن نے سابق ایم اے مرتضی ستی کے پارٹی کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے فیصلے پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نظریاتی کارکن پارٹی چھوڑ کر نہیں جاتے۔ انھوں نے کہا کہ نظریاتی کارکن ہر اچھے اور برے وقت میں پارٹی کے ساتھ رہتے ہیں۔

پارٹی کی ایک اور سابق ایم این اے فرودس عاشق اعوان کے بارے میں اس طرح کی افواہوں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سوال آپ ان ہی سے پوچھیں۔

مقامی اخبارات میں نذر گوندل اور امتیاز صفدر وڑائچ کے بھی اپنے وفاداریاں تبدیل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں