’کاون آپ کی مدد کا منتظر ہے جلدی کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ CambodiaWildifeSanctuary

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے چڑیا گھر میں ہتھنی سوزن کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجود ہاتھی کاون کو بھی شدید بیماری کے باعث ان کے بچاؤ کے لیے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر ایک بار پھر مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں 35 سالہ سوزن کی ہلاکت کی وجہ تنہائی، ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کے علاوہ موٹاپا قرار دیا گیا تھا جبکہ 2012 میں اسلام آباد میں ہلاک ہونے والی 22 سالہ ہتھنی سہیلی بھی اپنے آخری وقت میں شدید بیماریوں کا شکار ہوئی تھی اور چلنے پھرنے سے بھی محروم ہوگی تھی۔

36 سالہ کاون کو چھ سال کی عمر میں اسلام آباد چڑیا گھر میں لایا گیا تھا۔

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان اینیمل ویلفئر سوسائٹی کی ڈائریکٹر مہرا عمر کا کہنا تھا کہ سہیلی جس بدترین صورتحال کا شکار ہو کر ہلاک ہوئی کاون اس کا گواہ ہے اور اس کے بعد سے کاون ٹھیک نہیں رہتا۔

ان کے مطابق کاون اس وقت ذہنی امراض کے علاوہ مختلف قسم کے انفیکشن کا شکار ہوچکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CambodiaWildifeSanctuary

انھوں نے بتایا ’کاون کو ذہنی دباؤ سے نکلنے کے لیے قدرتی ماحول ، انتہائی نگہداشت اور ماہرین کی نگرانی کی ضرورت ہے اور یہ سہولتیں پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔‘

سینیٹر طاہر مشہدی نے بتایا کہ اسلام آباد چڑیا گھر کا دورہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کاون کی حالت انتہائی خراب تھی، اس کو مناسب خوراک، علاج اور ماحول دستیاب نہیں ہے۔

ان کے مطابق اس پر سینیٹ میں آواز اٹھائی گئی اور معاملہ سینیٹ کی داخلہ امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ کاون کو مناسب دیکھ بھال کے لیے کمبوڈیا وائلڈ لائف سینکچری کے حوالہ کردیا جائے، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود بھی اس پر کوئی عمل در آمد نہیں ہوا سکا۔

اینیمل ویلفیئر ڈبلیو ڈبلیو نے وزیر اعظم پاکستان کے نام پر آن لائن پٹیشن کا اجرا بھی کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’کاون آپ کی مدد کا منتظر ہے جلدی کریں کہیں دیر نہ ہو جائے۔‘

اسی بارے میں