پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی سیٹیوں کی گونج میں بجٹ پیش ہوا

Image caption پنجاب اسمبلی میں اکثریت مسلم لیگ ن کی ہے

حزبِ اختلاف کی جانب سے روایتی اندازِ احتجاج، ’گو نواز گو‘ کے نعروں اور سیٹیوں کی گونج میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے جمعہ کے روز آئندہ مالی سال کے لیے صوبہ پنجاب کا 1970 ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) صوبے میں اکثریت رکھتی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے لیکن اس کے بھی چند ہی ممبران ہیں۔

تصاویر: پنجاب میں گندم کی کٹائی

تصویر کے کاپی رائٹ Punjab Assembly
Image caption پنجاب کی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا تعلق ن لیگ سے ہے

بی بی سی اردو کے عمر دراز ننگیانہ کے مطابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کی بجٹ تقریر کے دروان اپنا احتجاج بلند کرنے کی غرض سے پاکستان تحریکِ انصاف کے درجن بھر ممبران اپنے ہمراہ سیٹیاں لائے ہوئے تھے جن کے شور سے بجٹ سیشن کے دوران پنجاب اسمبلی کا ہال گونجتا رہا۔

جس طرح حزبِ اختلاف کے احتجاج کا روایتی انداز زیادہ نہیں بدلہ اسی طرح پچھلے کئی برسوں کی طرح صوبائی بجٹ میں بھی شاید کچھ خاص نہیں بدلا۔ تاہم آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی پروگرام کا حجم رواں مالی سال کی نسبت 15 فیصد بڑھا کر 635 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ لوکل گورنمنٹ یعنی مقامی حکومتوں اور سوشل سیکٹر پر خرچ کیا جائے گا۔

مجموعی طور پر مقامی حکومتوں، صحت عامہ، تعلیم، زراعت اور امن عامہ و انصاف کے لیے 1017 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق یہ پاکستان میں کسی بھی صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی پروگرام ہے۔

یاد رہے کہ پجانب حکومت رواں مالی سال میں مختص کیے جانے والا 550 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی مکمل طور پر استعمال نہیں کر پائی تھی۔ تو سوال یہ ہے کہ آئندہ سال ترقیاتی پروگرام کے لیے بجٹ بڑھایا کیوں گیا ہے؟

حزب اختلاف کے سوالات

بجٹ اجلاس کے اختتام پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں بجٹ بڑھانے کے مقاصد سیاسی نوعیت کے ہیں۔

’یہ (ترقیاتی بجٹ) اپنے لوگوں کو سیاسی رشوت دینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ انتہائی نا انصافی ہے صوبہ پنجاب کے ان لوگوں کے ساتھ جو منتخب ہو کر اسمبلی میں آئے ہیں اور صرف اس لیے کہ ان کا تعلق حزبِ اختلاف سے ہے، ان کو محروم رکھا گیا ہے۔‘

’انہیں پچھلے چار سالوں میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے کوئی بجٹ نہ دینا، یہ آمرانہ اور غیر جمہوری رویہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے گذشتہ چار سالوں میں مسلسل اپوزیشن کو نظر انداز کیا جس کے خلاف انہوں نے بجٹ اجلاس کے دوران بھرپور احتجاج کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیحات اب بھی نہیں بدلیں۔

اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’لاہور کی ایک ٹرین کے لیے 93 ارب روپے رکھ دیے گئے ہیں مگر پنجاب کے دس کروڑ عوام کے لیے صحت اور تعلیم کا بجٹ آدھا ہے۔ ہم بجٹ کی ان ترجیحات کو مسترد کرتے ہیں۔‘

وزیرِ خزانہ پنجاب کے مطابق شعبہ تعلیم میں مجموعی طور پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 345 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے جو کہ رواں مالی سال میں مختص کیے گئے فنڈز سے تقریباٌ 33 ارب روپے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے صوبے میں شعبہ تعلیم میں کئی شروع اور مکمل کیے جانے والے پراجیکٹس کی تفصیلات بھی ایوان کی سامنے پیش کیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے رکن میاں محمد اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا۔

’اس کے خلاف ہم نے جو احتجاج کرنا ہے وہ تو ہم اسمبلی کے اندر کریں گے ہی ۔۔۔ حکومت اب آخری سانسوں پر ہے اس لیے یہ اب دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم نے تو جی میگا پراجیکٹس کیے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ یہ بتائے کہ کتنے نئے سکول بنائے گئے، کتنے ہسپتال نئے بنے اور کتنے غریب لوگوں کو ریلیف دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption صوبہ پنجاب کی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ اورنج ٹرین کے لیے مختص رقم چینی بینک نے دی ہے

حکومت کیا کہتی ہے

اٹھائے گئے ان تمام سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبہ پنجاب کی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اورنج ٹرین کے لیے مختص کی جانے والی زیادہ تر رقم چائنا کے ایکژم بینک کی جانب سے آئی ہے اور وہ صرف اور صرف اورنج ٹرین کے لیے ہے۔

’یہ کہنا درست نہیں کہ ہم اپنے بجٹ کے پیسے کاٹ کر اورنج ٹرین پر لگا رہے ہیں۔ وہ تو زیادہ آ ہی چائنیز بینک سے رہی ہے اور اگر یہ پراجیکٹ نہ ہوتا تو یہ پیسے بھی نہ ہوتے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت گزشتہ سال کے ترقیاتی پروگرام کا بجٹ 50 فیصد بھی استعمال نہیں کر پائی تو آئندہ مالی سال کے لیے اس پروگرام کی رقم کیوں بڑھا دی گئی، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کچھ میگا پراجیکٹس شروع کیے گیے جن میں صاف پانی کا پراجیکٹ بھی تھا۔

’ہم نے ترقی ضرور کرنی ہے مگر اس کے لیے ہمیں مؤثر لاگت والے پراجیکٹس کو آگے بڑھانا ہے۔ صاف پانی والا ہمارا بہت بڑا اور بلند نظر پراجیکٹ تھا مگر اس میں ہمیں کچھ بے قاعدگیوں کا پتہ چلا جس کی وجہ سے اس پر کام رکا رہا۔‘

اس کے آگے وہ بات ادھوری چھوڑ کر چلی گئیں۔

بجٹ میں اور کیا ہے؟

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختص کی جانے والی دیگر رقوم میں شعبہ صحت کے لیے 263 ارب 22 کروڑ روپے،

امن و عامہ و انصاف کے لیے 198 ارب روپے

روڈ سیکٹر کے لیے 90 ارب 64 کروڑ

ترقیاتی پروگرام میں صنعتی شعبے کی بحالی و ترقی کے لیے 15 ارب روپے

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایڈہاک الاؤنس 2010 کو ضم کرنے کے بعد 10 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ

اسی بارے میں