پاکستان نے ایرانی ڈرون گرانے کی تصدیق کر دی

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکام کا دعویٰ ہے کہ اس ڈرون کو پاکستانی فورسز نے گرایا ہے ۔ فائل فوٹو

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور میں ایرانی ڈرون مار گرایا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے اس ایرانی ڈرون کو اس وقت گرایا جب وہ پاکستانی سرحد کے تین سے چار کلومیٹر اندر پرواز کر رہا تھا۔

ایران کا سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر پاکستان سے احتجاج

بلوچستان میں ایرانی مارٹر گولے گرنے سے ایک شخص ہلاک

ترجمان کے مطابق پاکستان ایرانی حکام کے ساتھ اس حوالے سے پہلے ہی معلومات کا تبادلہ کر چکا ہے جس میں انھیں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی افواج نے اس لیے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا کہ اس پر کوئی نشان نہیں تھا اور اس پرواز کی اس سے پہلے کوئی معلومات نہیں تھیں۔

اس سے پہلے صوبہ بلوچستان میں حکام نے کہا تھا کہ ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور سے ایک تباہ شدہ ڈرون طیارہ برآمد کیا گیا۔

انھوں نے نے بتایا تھا کہ ڈرون کے ڈھانچے کو بذریعہ روڈ کسی قریبی چوکی تک منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی ساخت کے ڈرون کے گرائے جانے کی تصدیق کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

بلوچستان کے ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں لگتی ہیں۔ ان اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ IRANIAN TV

ان اضلاع میں سے بعض میں ایران کی جانب سے فائر کیے جانے والے راکٹ کے گولے اور مارٹر شیل بھی گرتے رہے ہیں۔

چند روز قبل پنجگور ہی میں ایران کی جانب سے فائر کیا جانے والا گولہ ایک گاڑی کو لگا تھا۔ گولہ لگنے سے بلوچستان کے ضلع آواران سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

انگریزی اخبار ڈان کے مطابق ایرانی ڈرون کو پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں مار گرایا۔

گرائے گئے ڈرون طیارے کا ملبہ سیکیورٹی فورسز نے قبضے میں لے لیا، لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس ڈرون کو کب تباہ کیا گیا۔

پاک فضائیہ نے بھی اس پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ 24 گھنٹے کے دوران یہ دوسرا ایرانی ڈرون ہے جسے تباہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکہ کا کہنا تھا کہ اس نے شام کے جنوب میں شامی حکومت کا ایک ایسا ڈرون طیارہ مار گرایا ہے جو بظاہر ایران میں تیار کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کے جائزے کے مطابق یہ ڈرون مسلح تھا اور اس سے امریکی قیادت میں شام موجود اتحادی افواج کو خطرہ تھا۔

یہ ڈرون شام اور عراق کی سرحد کے قریب الطنف کے علاقے میں مار گرایا گیا۔

یاد رہے کہ بظاہر یہ واقعہ شام میں امریکہ اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔

گذشتہ روز امریکہ کی جانب سے اتوار کے روز ایک شامی طیارے کو مار گرانے کے واقعے کے بعد روس نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی طیاروں کو بطور ایک ہدف تصور کریں گے۔

امریکی قیادت میں شام میں لڑنے والے ممالک کے اتحاد کی جانب سے ایک شامی ایس یو۔ 22 طیارے نے امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا جو کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف رقہ کے علاقے میں لڑ رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں