بدعنوانی کے جرم میں قید سابق اسرائیلی وزیر اعظم جیل سے رہا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود المرٹ فراڈ کے ایک مقدمے میں 27 ماہ قید کی سزا کا دو تہائی حصہ کاٹنے کے بعد پیرول پر رہا کیا جا رہا ہے۔

انھیں بطور وزیرِ تجارت رشوت لینے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کے جرم میں گذشتہ برس سزا دی گئی تھی۔

وہ اسرائیل کے پہلے سابق سربراہ ہیں جنھیں جیل جانا پڑا۔

وہ سنہ 2006 میں اسرائیل کے زیراعظم بنے تھے تاہم انھیں تین سال بعد مستعفی ہونا پڑا کیونکہ پولیس نے ان پر بہت سے الزامات لگائے تھے۔

71 سالہ ایہود المرٹ جب اسرائیل کی مرکزی جیل مسیاہو سے باہر نکلے تو انھوں نے صحافیوں سے کوئی بات نہیں کی۔

پیرول بورڈ کے مطابق المرٹ کو جیل میں بحالی کے عمل سے گزارا گیا اور اب ان کا طرز عمل بہت اچھا رہا۔

تاہم اب بھی اسرائیل کے اٹارنی کے دفتر میں سابق وزیراعظم کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ وہ جیل میں آنے سے قبل ایک کتاب لکھ رہے تھے اور حکام کو شبہ ہے کہ انھوں نے اس کتاب کا ایک حصہ بیرون ملک سمگل کر دیا تھا اور خدشہ ہے کہ اس سے ملکی سکیورٹی پر اثر ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ان کی ہسپتال میں موجودگی کے موقع پر لیک ہونے والی ایک تصویر کے بعد بھی ان سے ہمدردی اور رحم کے لیے آواز اٹھائی گئی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ انھوں نے سینے میں درد کی شکایت کی تھی جس پر انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم انھیں طبی طور پر کلیئر قرار دے کر واپس جیل بھجوا دیا گیا تھا۔

سنہ 2014 میں المرٹ پر یہ فرد جرم عائد کی گئی کہ سنہ 1993 اور 2003 میں جب وہ یروشلم کے میئر تھے تو انھوں نے پراپرٹی سے متعلقہ امور میں رشوت لی تھی۔

اس کے علاوہ ان پر فراڈ اور دھوکہ دہی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کے جرم ثابت ہوئے اور ان پر اس سلسلے میں الگ الگ مقدمات بھی چلے جبکہ انھیں دیگر مقدمات میں بری قرار دیا گیا۔