فساد کی جڑ کا کچھ انتظام ہونا چاہیے

ندیم اسلم کی کتاب تصویر کے کاپی رائٹ Nadeem Aslam/Faber & Faber

ابھی کچھ ہفتے پہلے پاکستان کے مایہ ناز ادیب ندیم اسلم کا نیا ناول ’دا گولڈن لیجنڈ‘ پڑھا۔ ناول کے آغاز میں ہی لاہور سے ملتے جلتے شہر میں ریمنڈ ڈیوس ٹائپ ایک امریکی ایک شخص کو گولی مار دیتا ہے۔ ہلاک ہونے والا ایک معروف آرکیٹیکٹ ہے۔ اس کی بیوہ نرگس ابھی اس صدمے سے نڈھال ہے کہ اس کے گھر ایک خفیہ ادارے کا افسر گھس آتا ہے اور کہتا ہے کہ عدالت میں پیش ہو جاؤ اور امریکی کو معاف کرو ورنہ۔۔۔۔۔

٭ ریمنڈ ڈیوس کی آخری پیشی

نرگس انکار کرتی ہے افسر دھمکی دیتا ہے، نرگس پھر بھی نہیں مانتی۔ افسر اس کی ایک پسندیدہ کتاب اور اس کے مرحوم خاوند کی نشانی پر خنجر آزمائی کرتا ہے۔ نرگس سمجھ جاتی ہے کہ افسر اس سے بیان دلوا کر رہے گا۔ وہ اپنی ایک لے پالک بیٹی کو لے کر راتوں رات غائب ہو جاتی ہے اور باقی ناول میں مفرور ہی رہتی ہے۔

انجام جاننا چاہتے ہیں تو ناول خریدیں اور پڑھیں جہاں تک مجھے علم ہے کہ یہ ناول وٹس ایپ پر مفت دستیاب نہیں۔

اگر اس ناول میں آپ کو اپنے دیس اور اس کے اداروں کی سچی جھلک نظر نہ آئے، اگر اس کہانی کی اندوہناک خوبصورتی سے آپ کی آنکھیں نم نہ ہو تو میں کتاب کی قیمت آپ کو واپس کر دوں گا۔

ابھی یہ ناول ختم ہی کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب آ گئی جو نہ پڑھی ہے، نہ پڑھوں گا۔ مجھے کرائے کے قاتلوں کے احساسات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

کتاب میں جو بریکنگ نیوز ہے وہ دراصل پہلے ایک امریکی صحافی کی کتاب میں چھپ چکی ہے۔ میری صحافی برادری کو بھی تبھی پتہ چل گئی ہو گی کہ لاہور میں جب عدالت میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے رشتہ دار باری باری آ کر قصاص اور دیت کے قانون کے مطابق اپنے پیاروں کا خون معاف کر رہے تھے تو آئی ایس آئی کے سربرہ جنرل پاشا کمرہ عدالت میں بذات خود موجود تھے اور امریکی سفیر کو ٹیکسٹ میسیج کر کے پل پل کی کاروائی کی خبر دے رہے تھے۔

جب امریکی صحافی کی کتاب The way of the knife میں یہ کہانی چھپی تو زیادہ تر صحافی بھائی جنرل پاشا سے اتنے فرینک نہیں ہوئے تھے کہ ان پر بات کرتے۔

ادارے کے سربراہ کا خوف جاتے جاتے جاتا ہے اور اب چونکہ کافی وقت گزر چکا ہے اس لیے سب جنرل پاشا کا نام لے کر ماتم کرہے ہیں کہ ہائے ہائے دیکھو کیسے ہمارے بھائیوں کے قاتلوں کو عزت دی گئی۔ ہماری خود مختاری کی چادر ایک بار پھر تار تار ہوئی۔

ان موسمی مرثیہ نویسوں کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ عدالت میں پیش ہو کر اپنے بچوں کے قاتل کو معاف کرنے والے لواحقین سے پوچھیں کہ بھائی آپ کے ساتھ کسی نے زور زبردستی تو نہیں کی، کیا جنرل پاشا خود آپ کے گھر چل کر آئے تھے یا کسی ماتحت افسر کو بھیجا تھا؟

کیا اس نے آپ کو قصاص اور دیت کی شرعی حیثیت کے بارے میں سمجھایا تھا یا کیا وسیع تر مفاد کا واسطہ دیا تھا اور بتایا تھا کہ ہم اپنے دوست جیسے بھائی امریکہ کو ناراض نہیں کرسکتے۔ یا سیدھا سیدھا یہ کہا تھا کہ عدالت میں پیش ہوکر ریمنڈ ڈیوس کو معاف کرو ورنہ؟؟؟

اور تو اور کسی نے لواحقین سے مڑ کر یہ بھی نہ پوچھا کہ جن کروڑوں کا عدالت میں وعدہ کیا گیا تھا وہ ملے یا نہیں؟

مجھے ندیم اسلم کا ناول بہت خوبصورت لیکن بہت بھیانک بھی لگا تھا۔ لیکن زندگی ندیم اسلم کا ناول نہیں ہے۔ یہ اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے اس میں کسی کردار کو ادارے سے آئے ہوئے افسر کے سامنے جرات انکار نہیں ہے۔ سب نے سر تسلیم خم کیا اور پھر منظر سے یوں غائب ہو گئے جیسے کبھی زندہ ہی نہ تھے۔

باقی رہی یہ بحث کہ کیا جنرل پاشا کو عدالت میں موجود ہونے کی ضرورت تھی یا نہیں تو یہ صرف زیب داستان کے لئے ہے یا ٹیلی ویژن پر بٹیروں کی لڑائی جاری رکھنے کا بہانہ۔

آئی ایس آئی کوئی ایدھی فاؤنڈیشن نہیں ہے کہ لاچاروں کی مدد کرےگ یہ ملکی سلامتی کے نازک اور مشکل فیصلوں پر عمل درآمد کرتی ہے۔ اور جب ایسے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے کوئی بڑا ڈراما سٹیج کرنا پڑے تو ڈائریکٹر کا خود ہونا ضروری ہے۔

میں نے پاکستان کے عظیم تھیٹر ڈائریکٹر ضیا محی الدین کو دیکھا ہے کہ اپنے ڈائریکٹ کیے ہوئے ڈرامے کے دوران اکثر آخری نشستوں پر بیٹھ کر ڈراما دیکھتے ہیں۔ میں سوچتا تھا کیوں؟ریہرسل ہوچکی، ڈرامے کے دوران ضیا صاحب ہدایت بھی نہیں دے سکتے تو کیوں ہر پرفارمنس میں موجود ہوتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BenBella Books

ایک سیانے بھائی نے سمجھایا کہ اس لیے کہ اداکاروں کو پتہ ہوتا ہے کہ ضیا صاحب ہال میں موجود ہیں، ایک ایک حرکت دیکھ رہے ہیں۔ اگر کوئی چوک ہوئی تو ضیا صاحب ایسی کلاس لیں گے کہ ساری ایکٹنگ بھول جائے گی۔

تو جنرل پاشا ضیا محی الدین کے پائے کے ڈائریکٹر تو کبھی نہ بن پائے لیکن اپنی ذاتی موجودگی سے انھوں نے یہ بات یقینی بنائی کہ ڈرامے کے دوران سارے ایکٹر سکرپٹ پر قائم رہیں۔

جنرل پاشا کے خیر خواہ انھیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ میڈیا پر آ کر اپنی صفائی پیش کریں۔ انھیں ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ جب ادارے کے سابق سربراہ ٹی وی پر آتے ہیں تو ان کا رہا سہا دبدبہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

ادارے کے ایک سابق سربراہ جاوید ناصر نے یہ حل نکالا تھا کہ وہ کبھی کبھار ٹی وی پر آتے تھے لیکن شکل نہیں دکھاتے تھے، بس ایک نورانی سا ہیولہ نظر آتا تھا۔ ایک پرانے انٹرویو میں وہ کہتے پائے گئے کہ اسامہ کا سارا قضیہ اس لیے شروع ہوا کہ سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر ننگی لڑکیاں نیکروں میں گھومتی ہیں۔

ایسی باتیں سن کر کمزور ایمان والوں کا دل ویسے ہی دہل جاتا ہے اور اب دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اب چونکہ ہمارے سابق سپہ سالار سعودی عرب میں ہیں اور انھوں نے امہ کی کمان سنبھال لی ہے۔ تو ان کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہییے کہ فساد کی جڑ ان بےلباس لڑکیوں کے لیے کچھ عبایا وغیرہ کا انتظام کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں