ملالہ یوسفزئی اپنا مشن ٹوئٹر پر جاری رکھیں گی

ملالہ یوسفزئی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ملالہ یوسفزئی نے اپنی سکول کی تعلیم ختم کر کے ٹوئٹر میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

انھیں طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں آواز اٹھانے پر سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔

19 سالہ نوبیل انعام یافتہ ملالہ نے سکول ختم ہونے کے دن ہی اپنی پہلی ٹویٹس بھیجیں، جن میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے 'کھٹا میٹھا' لمحہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی سوچیں ان لاکھوں لڑکیوں کے ساتھ ہیں جنھیں کبھی تعلیم کی سہولت میسر نہیں آتی۔

ملالہ نے صرف 11 سال کی عمر میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بلاگ لکھنا شروع کیا تھا۔

اکتوبر 2012 میں انھیں سکول وین کے اندر نشانہ بنا کر گولی ماری گئی تھی جس کے بعد دنیا بھر کے میڈیا نے انھیں نمایاں جگہ دی تھی۔

ملالہ کا برطانیہ میں علاج ہوا تھا۔ وہ اس کے بعد سے وہیں مقیم ہیں۔

جمعے کی سہ پہر کو انھوں نے @Malala کے ہینڈل سے ٹوئٹر پر شمولیت اختیار کر لی۔

انھوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دیں، اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں گرمیوں کی چھٹیوں میں دنیا بھر میں تشہیری مہم چلائیں گی۔

اس سے قبل ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ ملالہ کو برطانیہ کی ایک چوٹی کی یونیورسٹی کی جانب سے تعلیم حاصل کرنے کی مشروط پیش کش ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@MALALA

اسی بارے میں