قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کی رپورٹ پیش، اپوزیشن کے تحفظات

ووٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں اگلے برس عام انتخاب ہوں گے

پاکستان کے انتخابی قوانین میں اصلاحات کے لیے سنہ دو ہزار چودہ میں تشکیل دی جانے والے پارلیمانی کمیٹی نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے ذریعے شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کمیٹی نے 129 اجلاسوں کی طویل مشاورت کے بعد رپورٹ تشکیل دی ہے جس میں 15 بڑے ابواب اور ضابطے شامل ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس رپورٹ میں آٹھ قوانین کو یکجا کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جون 2014 میں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے انتخابی اصلاحات کے قانون کی منظوری دی تھی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اس رپورٹ پر سول سوسائٹی، بار کونسلز اور عوام کی آرا بھی لی گئیں ہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنی تجاویز شامل نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

وزیر قانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 40 سال کے بعد انتخابی اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو خود مختار بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتخابی قوانین میں اصلاحات تین سال میں مرتب کی گئی ہیں

انتخابی قوانین میں اصلاحات تجویز کرنے کے لیے 2014 میں اسحاق ڈار کی سربراہی میں بنائی جانے والی کمیٹی کے رکن پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے سید نوید قمر نے کہا ہے کہ جو بل حکومت پیش کرنے جا رہی ہے وہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے سید نوید قمر نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کے اب بھی ان اصلاحات کے بارے میں چند بنیادی نوعیت کے تحفظات ہیں جنھیں دور نہیں کیا گیا۔

حزب اختلاف کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کے بارے میں سید نوید قمر نے کہا کہ انھوں نے ووٹ ڈالنے کے لیے جدید ترین کمپیوٹرازڈ مشینیں استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان مشینوں کے استعمال سے ووٹ کی پرچیوں کی چھپائی سے بھی چھٹکارا مل جاتا۔

نوید قمر نے بتایا کہ مشینیں دستیاب کرنا اگر ممکن نہیں تھا تو اس کے متبادل کے طور پر حزب اختلاف نے تجویز کیا تھا کہ بیلٹ پیپر اعلیٰ معیار کے واٹر مارک کاغذ پر چھاپی جائیں تاکہ جعلی بیلٹ پیپروں کی چھپائی کو روکا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے کاغذ سے کم از کم اردو بازار سے جعلی بیلٹ پیپر چھپوا کر بیلٹ بکسوں کو بھرنے کا راستہ تو روکا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ووٹوں کی پرچیاں پولنگ سٹیشنوں پر بھی گنی جاتی ہیں

انھوں نے کہا کہ ووٹروں کی شناخت کے لیے بائیومٹرک نظام کی تجویز بھی ان اصلاحات میں شامل نہیں کی گئی۔

سمندر پار پاکستانیوں کو عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے بارے میں بھی حزب اختلاف کی تجویز کے بارے میں سید نوید قمر نے کہا یہ بھی حکومت کے لیے اس مرحلے پر ممکن نہیں تھا۔

نوید قمر نے کہا کہ انتخابی قوانین میں اصلاحات کا مقصد ملک میں ایسے انتخابات کا انعقاد کو یقینی بنانا تھا جن پر سب کو اعتماد ہو اور انتخابات متنازع نہ ہوں۔

حکمران جماعت کی طرف سے مرتب کردہ تجاویز پر انھوں نے کہا کہ یہ اطمینان بخش نہیں ہیں اور غیر متنازع انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں کو اس مجوزہ بل کے بارے میں تحفظات ملتے جلتے ہیں۔

آئین میں منتخب نمائندوں کی اہلیت سے متعلق شقوں باسٹھ اور تریسٹھ کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی اور سپریم کورٹ کو آرٹیکل 184 (3) کے تحت اختیارات جو کہ نواز شریف کی نااہلی کے مقدمے میں زیر بحث رہے، ان میں ترامیم کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا ان پر بات ضرور ہوئی تھی تاہم اس بارے میں اختلافِ رائے کے بعد ان پر مزید بات نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں