نااہلی کے بعد سیاسی طاقت کا پہلا مظاہرہ، نواز شریف لاہور کے سفر پر

نواز شریف

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس کیس میں نا اہل ہونے کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف آج اپنی سیاسی طاقت کا پہلا مظاہرہ کرنے کے لیے پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔

ریلی میں میاں نواز شریف کے ہمراہ نون لیگ کی قیادت اور کابینہ کے ارکان بھی موجود ہیں۔

نجی ٹیلی وژن اے آر وائی نے الزام لگایا ہے کہ فیض آباد انٹر چینج پر ریلی کے شرکا نے ان کے سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں سنگین تنائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ وہاں پر موجود پولیس اہلکار کے بقول حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کارکن نجی ٹی وی کے عملے پر تشدد کے لیے آگے بڑھے لیکن وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔

Image caption وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی قیادت کی کوشش ہے کہ جمعے کے روز تک لاہور پہنچ جائیں

نواز شریف کا جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ

'اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا؟

نواز شریف اور عدالتیں

اس کے بعد مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کارکنوں کو ایسا کرنے سے روکا۔ ان کا کہنا تھا ’کارکن مسلم لیگ ن مخالف میڈیا ہاؤسز پر حملے کرنے سے اجتناب کریں'۔

وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ کا ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی قیادت کی کوشش ہے کہ جمعے تک لاہور پہنچ جائیں۔

سابق وزیراعظم کی روانگی سے قبل وزیراعظم خاقان عباسی اور ان کی کابینہ کے متعدد اراکین نے پنجاب ہاؤس میں ان سے ملاقات کی اور انھیں الوداع کیا۔

نواز شریف کا قافلہ اسلام آباد کے ڈی چوک سے فیض آباد اور پھر مری روڈ سے ہوتا ہوا جی ٹی روڈ سے لاہور کے سفر پر روانہ ہو گا۔

اس موقع پر سکیورٹی اور ٹریفک کا خصوصی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

ٹریفک پلان کے مطابق نواز شریف کی ریلی کے دوران 600 ٹریفک پولیس اہلکار جن میں ایس ایس پی، ایس پی ٹریفک، چار ڈی ایس پیز اور 23 انسپیکٹرز شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسلام آباد پولیس کے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے فیض آباد تک پولیس کے 2,500 اہلکار ریلی کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کریں گے جبکہ 1,200 پولیس اہلکار نواز شریف کی سکیورٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سینیٹر آصف کرمانی نے پنجاب ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کچھ ہی دیر میں لاہور کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے وزیراعظم کے عہدے سے معزولی کے بعد بدھ کو لاہور جانے کے طے شدہ پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے موٹر وے کے بجائے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کا اعلان کیا تھا۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق سابق وزیر اعظم نے اتوار کو موٹر وے کے ذریعے لاہور پہنچنا تھا۔

Image caption اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف مقامات نواز شریف سے یکجہتی کے اظہار کے لیے چھوٹے بڑے بینرز اور پوسٹر لگائے گئے ہیں

گذشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا تھا۔

نااہلی کے فیصلے کے بعد نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے اور بعدازاں وزیراعظم ہاؤس خالی کرکے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ 30 جولائی کو سیاحتی مقام مری روانہ ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں