’جوہری معاہدے کو بچانا ایران کی اولین ترجیح ہے‘: صدر روحانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر روحانی نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے لیے کھڑے ہونے کا مطلب ایران کے دشمنوں کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح جوہری معاہدے کو بچانا ہے جسے امریکہ ختم کرنا چاہتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر روحانی نے کہا کہ اس وقت ایرانی وزیرخارجہ کے پاس سب سے اہم کام مشترکہ جامع طریقہ کار یا جے سی پی او اے کی پشت پر کھڑے ہونا ہے تا کہ امریکہ اور دیگر دشمن کامیاب نہ ہو سکیں۔

امریکہ سمیت عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام پرامن مقاصد تک محدود رکھے گا جس کے جواب میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں بتدریج ہٹا لی جائیں گی۔

جے سی پی او اے اس معاہدے کا تکنیکی نام ہے۔

صدر روحانی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے لیے کھڑے ہونے کا مطلب ایران کے دشمنوں کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔

گذشتہ ہفتے صدر روحانی نے اشارتاً کہا تھا کہ اگر امریکہ نے پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ختم کر دیں گے۔ ایران کی جانب سے میزائلوں کے حالیہ تجربات کے بعد امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ دونوں جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

لیکن صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کی ترجیح یہی ہے کہ جوہری معاہدہ قائم رہے اور ملکی معیشت کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے۔

صدر روحانی نے اپنی کابینہ کے لیے جن 17 افراد کے نام پارلیمنٹ میں پیش کیے ان میں سے 16 کی منظوری دے دی گئی۔

جوہری معاہدے کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے ایران کے وزیرِخارجہ جواد ظریف کو دوبارہ وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔

صدر روحانی ایک اصلاح پسند رہنما ہیں جو اس سال مئی میں دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایران کی تنہائی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے اور ایران میں شہری آزادیوں کی صورتحال میں بہتری لائیں گے۔