قطر کی سعودی پروازیں روکنے کی تردید

سعودی عرب ایئر لائنز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

قطر نے سعودی عرب کے ان الزامات کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قطر نے سعودی عرب کی پروازوں کو امارت میں لینڈ کرنے اور وہاں سے مسلمان حاجیوں کو مکہ منتقل کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔

سعودی عرب ایئر لائنز نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ قطر کے حکام نے سعودی عرب ایئر لائنز کی ایک پرواز کو حماد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب ایئر لائنز کی اس پرواز کے ذریعے قطر کے حاجیوں کو مکہ منتقل کیا جانا تھا۔

قطر خلیجی ممالک کو کھٹکتا کیوں ہے؟

چھ عرب ممالک کا قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

قطر اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی چار وجوہات

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب ایئر لائنز کی یہ پرواز ان منتخب پروازں میں شامل تھی جس کے ذریعے قطری باشندوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے ہی قطری باشندوں کو جج کی ادائیگی کے لیے قطر کے ساتھ اپنی سرحدوں کو عارضی طور پر کھول دیا تھا۔

قطر کے سرکاری خبر رساں ادارے کیو این اے نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر سول ایوی ایشن کے ایک سرکاری ذریعے نے پیر کو ان خبروں کو 'بے بنیاد' قرار دیا جس میں مبینہ طور پر دعوی کیا گیا تھا کہ قطر نے سعودی ایئر لائنز کی پرواز کو قطری حاجیوں کو مکہ منتقل کرنے کے لیے لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

قطر سول ایوی ایشن حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں سعودی ایئر لائنز کی جانب سے قطر میں لینڈ کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی جسے اس نے 'گذشتہ پریکٹس کے مطابق' منسٹری آف اسلامک افیئرز کو ریفر کر دیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے رواں برس جون میں اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات مقطع کرنے والے چھ عرب ممالک میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔

قطر ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اسی بارے میں