مسلم لیگ ق کے رہنما قدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھا لیا

پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما قدوس بزنجو نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

قدوس بزنجو اس وقت نہ صرف پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ ہیں بلکہ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں انھیں سب سے کم ووٹ بھی ملے تھے جو کہ صرف 544 تھے۔

اس تبدیلی کے ساتھ بلوچستان میں اکثریت میں ہونے کے باوجود حکومت کی قیادت ن لیگ کے ہاتھ سے نکل کر ق لیگ کے ہاتھ میں چلی گئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان تحریک عدم اعتماد سے قبل مستعفی

بلوچستان: ‘استعفوں کا سینیٹ انتخابات سے تعلق نہیں‘

نون لیگ کے داؤ پیچ اور اس کا تحلیل ہوتا ووٹ بینک

لندن اور جنیوا کے بعد فری بلوچستان مہم اب نیو یارک میں

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی جہاں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ان سے حلف لیا۔

وزیرا علیٰ قدوس بزنجو کے ساتھ ان کی کابینہ کے 14 وزرا نے بھی حلف لیا۔

کابینہ کے 14وزرا میں سے ن لیگ کے اراکین کی تعداد 11 ہے۔

مسلم لیگ ق کے ایک رکن کو وزیر بنانے کے علاوہ مجلس وحدت المسلمین کے واحد رکن اور پشتوانخواملی عوامی پارٹی سے وزیر اعلیٰ کو ووٹ دینے والے رکن منظورکاکڑ کو بھی کابینہ میں بطور وزیرشامل کیا گیا۔

قبل ازیں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے 65 اراکین میں سے اجلاس میں شریک تمام 54 اراکین نے ووٹ ڈالے۔

ن لیگ کے منحرف اراکین اور ق لیگ کے متفقہ امیدوار قدوس بزنجو کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا لیاقت نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ 54 اراکین میں سے 41 اراکین نے قدوس بزنجو جبکہ 13 نے آغا لیاقت کو ووٹ دیا۔

بلوچستان میں نئے وزیر اعلیٰ میر عبد القدوس بزنجو کے انتخاب کے ساتھ جہاں مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے ایک صوبے کی حکومت نکل گئی وہاں بطور پارٹی بھی اس کو نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔

قدوس بزنجو کا تعلق ضلع آواران سے ہے جہاں عسکریت پسند تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث سنہ 2013 میں انتخابات بری طرح متاثر ہونے کے باعث وہاں کی نشست پر 700 سے کم ووٹ پڑے تھے۔

نئے وزیر اعلیٰ کا تعلق عددی لحاظ سے پانچویں بڑی جماعت ق لیگ سے ہے۔

ق لیگ کے بلوچستان اسمبلی میں صرف پانچ ارکان ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ن لیگ کے 21 اور سابق مخلوط حکومت میں اس کی اتحادی جماعتوں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14اور نیشنل پارٹی کے 11 ارکان ہیں۔

بظاہر قدوس بزنجو کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے روح رواں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم لیگ نون بلوچستان سے چار سے زیادہ سینیٹ کی نشستیں نہیں جیت سکتی ہے۔

جہاں ن لیگ کے ارکان کی اکثریت نے پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت سے بغاوت کرکے قدوس بزنجو کو ووٹ دیا وہیں متحدہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں جمیعت العلمائے اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دو جنوری سنہ 2017 کو سابق وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی اس کا خاتمہ فی الحال ن لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے لیے بہت سارے نقصانات کے ساتھ ہوا۔

حکومت ہاتھ نکلنے کے علاوہ ن لیگ کو دوسرا نقصان یہ ہوا کہ بغاوت کے باعث پارٹی کے اکثر ارکان اسمبلی پارٹی کی ڈسپلن سے آزاد ہو گئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نواب ثنا اللہ زہری وزیر اعلیٰ رہتے تو شاید اکثریتی پارٹی ہونے کے ناطے بلوچستان سے ن لیگ کو چار سے پانچ نشستیں ملتیں لیکن اب ان کے مطابق شاید ن لیگ کے لیے ایک نشست کا حصول بھی مشکل ہو۔

ن لیگ کی طرح اس کی اتحادی جماعتوں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو بھی جہاں حکومت سے باہر ہونے کی شکل میں نقصان سے دوچار ہونا پڑا وہاں ان کی صفوں میں بھی بغاوت سامنے آئی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مطابق پارٹی کے رکن منظور احمد کاکڑ نے پارٹی کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار کو ووٹ دینے کی بجائے قدوس بزنجو کو ووٹ دیا۔

نیشنل پارٹی کے آٹھ ارکان اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے لیکن پارٹی کے فیصلے کے برعکس اس کے تین ارکان خالد لانگو، میر مجیب الرحمان، محمد حسنی اور فتح بلیدی اجلاس میں آئے اور انھوں نے قدوس بزنجو کو ووٹ دیا۔

اسی بارے میں