برطانوی مسلمان اور گلِ لالہ

چند روز قبل عید الا ضحیٰ کے سلسلے میں ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ برطانیہ میں جہاں بھی پاکستانی جمع ہوتے ہیں وہاں پاکستان کے حالات اور برطانیہ میں مسلمانوں کی صورتحال پر بات ضرور ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح دیگر موضوعات کے ضمنی ذکر کے بعد گفتگو کا محور مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی حالتِ ذار ہو گیا۔

گفتگو کے دوران ایک دوسرے کو مشورے دیے جانے لگے کہ کیسے اپنے بچوں کو مغربی تہذیب کے اثرات سے بچایا جائے۔ لیکن کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ بچوں کو ان اثرات سے بچانے کی حکمت عملی پر ہونے والی گفتگو کب برطانوی حکومت کو غلط معلومات فراہم کر کے بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے کے مشوروں میں تبدیل ہو گئی۔

اس دوران حاضرینِ محفل کو احساس ہوا کہ ان میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اکثر باتوں سے ناصرف اختلاف کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے گیارہ نومبر کی مناسبت سے کاغذ کا بنا ہوا گلٌ لالہ بھی اپنے کوٹ پر لگایا ہوا ہے۔

برطانیہ میں گیارہ نومبر کا دن جنگِ عظیم اول اور دوئم میں حصہ لینے والے فوجیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو ریمیمبرنس ڈے کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر برطانیہ میں لوگ پوپی کا سرخ پھول ( گلِ لالہ) اپنے کپڑوں پر لگاتے ہیں۔

حاضرین میں سے کچھ نے ان دو حضرات سے تمسخرانہ انداز میں کہا کہ آپ تو واقعی انگریز ہو گئے ہیں۔ جس پر ان میں سے ایک نے کہا کہ انہوں نے انجم چودھری جیسے لوگوں سے اپنے آپ کو الگ دکھائی دینے کے لیے یہ پھول اپنے کوٹ پر لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف انجم چودھری کے خیالات سے اختلاف کرتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ انجم چودھری جیسے لوگ مغرب میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

انجم چودھری مسلمز اگینسٹ کروسیڈز نامی تنظیم کے رہنما ہیں جنہوں نے گیارہ نومبر کے موقع پر برطانوی فوجیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔