نامعلوم فوجی توجہ کا مرکز بن گیا

Image caption کیمرے کی آنکھ سے محفوظ ہونے والے اس منظر نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر بہت سے دلوں کو چھوا ہے

پریڈ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے سینکڑوں افراد کے سامنے تمغوں سے اٹا سینہ لیے ایک ضعیف شخص پریڈ کے راستے پر آنسو پونچھتے ہوئے تنہا گزر رہا ہے۔ ان کے ہاتھ میں موجود گلدستہ شاید ملک و قوم کے لیے ان کی اور ان کے ساتھیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔

کیمرے کی آنکھ سے محفوظ ہونے والے اس منظر نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر بہت سے دلوں کو چھوا ہے۔

فیس بُک کے ایک معروف پیج کے مطابق یہ صاحب دوسری جنگ عظیم میں حصہ لینے والے ایک گروہ کے زندہ بچ جانے والے آخری رکن ہیں۔ اس تصویر کو فیس بُک پر دس لاکھ کے قریب لوگوں نے لائیک کیا ہے۔

ان صاحب کی قومیت کے بارے میں واضح معلومات نہ ہونے کے باوجود سبھی لوگوں نے ہمدردی کے جذبات کا اظہار کیا ہے اور ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان صاحب کا تعلق ان کے ملک سے ہے۔

تاہم تصویر میں کئی ایسے اشارے موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تصویر روس میں کھینچی گئی تھی۔ پس منظر میں لہراتا ہوا سہ رنگا پرچم اور ان کے سینے پہ آویزاں تمغے یہی بتاتے ہیں۔

چند ویب سائیٹوں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر روس کے سینٹ پیٹرز برگ کے معروف فوٹوگرافر ایلگزینڈر پٹروسین نے کھینچی تھی۔ پٹروسین نے بی بی سی ٹرینڈنگ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے یہ تصویر سنہ 2007 میں سینٹ پیٹرز برگ میں وکٹری ڈے پریڈ کے موقعے پر کھینچی تھی۔

یاد رہے کہ وکٹری ڈے کی سالانہ پریڈ دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین کی جانب سے نازی جرمنی کو شکست دینے کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔

تاہم پٹروسین کہتے ہیں کہ انھیں سابق فوجی کے بارے میں یا ان کی قومیت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں: ’میں نے ان سے گفتگو نہیں کی تھی، صرف ان کی تصویر کھینچی تھی۔‘

یہ تصویر روس میں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر گذشتہ کئی سالوں سےگردش میں ہے تاہم روس کے باہر اچانک اس تصویر کو ملنے والی مقبولیت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔

اس تصویر میں موجود سابق فوجی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بی بی سی ٹرینڈنگ نے سینٹ پیٹرزبرگ کی سابق فوجیوں کی ایسوسی ایشن سے رابطہ قائم کیا تاہم وہاں سے بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

ٹرینڈنگ کی جانب سے درخواست کرنے پر پٹروسین نے اپنے فیس بُک پیج پر یہ تصویر شائع کی تھی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹوں پر ان کے بہت سے فالوورز ہیں اور امید کی جا رہی تھی کہ شاید کوئی انھیں شناخت کر لے گا۔

تاہم فیس بُک پیج پر تصویر پوسٹ کرنے کے بعد اس بحث کا آغاز ہو گیا کہ کیا تصویر میں نظر آنے والے صاحب کی عمر اتنی ہے بھی کہ انھوں نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا ہو؟ تمام تر بحث کے باوجود کوئی بھی انھیں شناخت نہیں کر سکا۔

برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں روسی فوج کے ماہر ڈاکٹر اگور سُچاگن نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ تصویر میں موجود شخص کی عمر 75 سال ہو۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ریڈ آرمی (روسی فوج) میں جبری بھرتی کی کم سے کم عمر 17 سال تھی۔‘

اگر تصویر میں موجود شخص سنہ 1945 میں فوج میں بھرتی ہوئے ہوں تو ان کی عمر سنہ 2007 کی وکٹری پریڈ کے موقعے پر 79 سال ہو گی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ بھرتی کے وقت ان کی عمر اس سے بھی کم رہی ہو۔

سُچاگن کہتے ہیں کہ ’اگر ان کا تعلق سن آف رجمنٹ (فوج کے بیٹوں) سے رہا ہے تو بھرتی کے وقت ان کی کم سے کم عمر 13 سال بھی ہو سکتی ہے۔‘ خیال رہے کہ یہ وہ یتیم بچے تھے جنھیں جنگ میں حصہ لینے کےلیے گود لیا گیا تھا اور یہ بچے اپنے بالغ ساتھیوں کے ساتھ جنگ میں شامل تھے۔

سُچاگن کے مطابق دائیں جانب انھوں نے جو تمغہ پہنا ہوا ہے وہ ’دی آرڈر آف دی پیٹریوٹک وار‘ ہے۔ یہ تمغہ سوویت یونین کی جانب سے ان فوجیوں کو دیا گیا تھا جنھوں نے دوسری جنگ عظیم میں اپنے ملک کی جانب سے حصہ لیا تھا جبکہ دیگر برسی پر دیے جانے والے تمغے ہیں۔

ان صاحب کی شناخت جانے بغیر یہ کہنا ناممکن ہے کہ وہ اپنے یونٹ کے زندہ بچ جانے والے آخری رکن ہیں، تاہم ایک بات یقینی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے سابق فوجیوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ اور اس کا اندازہ ایک اور تاریخی روسی تصویر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

سنہ 2011 میں ماسکو میں ہونے والی وکٹری پریڈ کے دوران لی گئی اس تصویر میں نظر آنے والے صاحب بیلا روس کے کونسٹینٹین پُرونن ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے وہ ہر پریڈ میں شرکت کرتے رہے ہیں، تاہم سنہ 2011 میں پہلی بار ان کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی دوسرا فرد شریک نہیں ہوا تھا۔

امریکہ میں نیو آرلینز کے دوسری جنگ عظیم کے قومی عجائب گھر کے مطابق روزانہ اس جنگ میں حصہ لینے والے تقریباً 430 سابق فوجیوں کی اموات ہوتی ہیں، یا ہر تین منٹ میں ایک موت واقع ہوتی ہے۔

ایک کروڑ 60 لاکھ فوجیوں میں سے محض سات لاکھ فوجی حیات ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق آئندہ 20 سالوں میں دوسری جنگ عظیم میں حصہ لینے والا کوئی فوجی بھی زندہ نہیں ہو گا۔

ہمیں شاید ان بزرگ فوجی کا نام کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے جن کی تصویر نے بہت سارے دلوں پہ اپنا نقش چھوڑا ہے۔

اسی بارے میں