انصار الاسلام

انصارالاسلام تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی فوج کا کوبرا ہیلی کاپٹر خیبر ایجنسی میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے پوزیشن لیتے ہوئے۔

خیبر ایجنسی میں متحرک بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پیر سیف الرحمان کا تعلق افغانستان سے ہے اور ان کا مشن غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے بریلوی مسلک کا پرچار تھا۔

مسلک کے اختلاف کی بنیاد پر قائم دیوبندی مکتبہ فکر کی تنظیم لشکر اسلام کے حملوں کے خلاف دفاع کے لیے دو ہزار پانچ میں پیر سیف الرحمان نے انصار الاسلام گروپ قائم کیا جس کی زیادہ تر سرگرمیاں خیبر ایجنسی کی تیراہ وادی میں تھیں۔

فروری دو ہزار چھ میں پولٹیکل انتظامیہ ک حکم پر علاقہ بدر ہونے کے بعد پیر سیف سیف الرحمان نے اپنی رہا ئش لاہور منتقل کر لی۔

گروپ کی قیادت اب مولانا غازی محبوب الحق کے ہاتھ میں ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں دونوں گروپوں میں جاری لڑائی کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔