لشکر اسلام

لشکرِ اسلام تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ۔ تصویرعبدالمجیدگورایہ

پاک افغان سرحد پر واقع خیبر ایجنسی میں دوہزار چار میں منظر عام پر آنے والے لشکر اسلام کی قیادت دیوبندی شدت پسند مفتی منیر شاکر کے پاس تھی جن کا مقصد بریلوی نظریات رکھنے والے گروہ کے خلاف لڑنا تھا۔

بریلوی گروہ کی قیادت پیر سیف الرحمان کر رہے تھےاور دونوں گروپوں نے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشنز کے ذریعے ایک دوسری کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر رکھا تھا۔

فروری دو ہزار چھ میں باڑہ پولٹیکل انتظامیہ نے مفتی منیر شاکر اور پیر سیف الرحمان کو علاقہ بدر کر دیا بعد ازاں مئی دو ہزار چھ میں کراچی ائر پورٹ پر مفتی منیر شاکر کو گرفتار کر لیا گیا جب انہوں نے بیرون ملک جانے کی کوشش کی۔

اس دوران لشکر اسلام گروپ کی قیادت منگل باغ نے سنبھال لی۔ گروپ نے علاقے میں شریعت کے قیام کا اعلان کیا اور باڑہ کی مساجد میں نمازیوں کے لیے حاضری رجسٹر بھی رکھوائے۔

اگست دو ہزار سات میں مفتی منیر شاکر کو رہا کر دیا گیا لیکن منگل باغ نے انہیں علاقے میں واپسی سے روک دیا۔

اب تک باڑہ اور تیراہ وادی میں دونوں گروپوں کے درمیان لڑائی میں سینکڑوں جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

منگل باغ گروپ اغواء برائے تاوان کے وارداتوں میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔