البدر افغانستان

البدر افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوویت افواج کے خلاف برسر پیکار افغان جنگجو، 1980 فوٹو وژول نیوز پاکستان۔

البدر کا دوسرا جنم انیس سو اسی میں سوویت یونین کے خلاف افغان مزاحمت کے دوران ہوا جب جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو، گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے ساتھ ایک ونگ کے طور پر منظم ہوئے۔

البدرافغانستان کی قیادت کمانڈر بخت زمین کے پاس تھی جن کا آبائی تعلق صوبہ سرحد کے علاقہ دیر سے اور سیاسی تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔

البدر میں شمولیت کے لیے خود جماعت اسلامی اور اس سے وابستہ طلبہ اور دیگر تنظیموں کے افراد جوق در جوق افغانستان پہنچے کیونکہ جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی سوچ کو آگے بڑھانے والے دانشوروں کی تحریروں میں سوویت کمیونزم کو اسلام اور اسلامی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے وابستگان کے لیے عسکری تربیت ایک اضافی صلاحیت تھی جو ’افغان جہاد‘ میں شرکت کے نتیجے میں حاصل ہو رہی تھی اور اسے کہیں بھی استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔

جماعت اسلامی سے وابستہ ادیبوں نے افسانے اور کہانیاں لکھیں جبکہ شاعروں نے جہادی نغمے تخلیق کیے اس طرح افغان جنگ کی آگ کو انسانی جسموں کا ایندھن با آسانی فراہم ہوتا چلا گیا اور البدر آگے بڑھتی رہی۔

عرب سرمائے اور امریکی اسلحے کے ساتھ لڑی جانے والی دس سالہ جنگ کے اختتام تک کراچی سے خیبر تک بلا تفریق ہر بڑے چھوٹے قبرستان میں ’شہید جہاد افغانستان’ کے کتبے سر اٹھا چکے تھے۔