البدر اور الشمس

البدر اور الشمس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جماعت اسلامی پاکستان پر مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران البدر کے لیے رضا کار فراہم کرنے کا الزام ہے۔

پچیس مارچ انیس سو اکہتر کو سابق مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کی طرف سے پاکستان سے علیحدگی کے لیے شروع کی جانے والی تحریک کو کچلنے کے لیے پاکستانی فوج نے ’’آپریشن سرچ لائٹ’’ شروع کیا تو زمام کار فوجی کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ٹکا خان کے پاس تھی لیکن حالات مسلسل قابو سے باہر ہو رہے تھے۔

اگست انیس سو اکہتر میں گورنر کا عہدہ سنبھالنے والے بنگالی شہری عبدالمطلب ملک کے فوجی مشیر میجر جنرل راؤ فرمان علی کے ’زرخیز‘ ذہن نے تصور پیش کیا کہ متحدہ پاکستان کے حامی بنگالی رضاکاروں پر مشتمل تنظیمیں قائم کر کے انہیں عسکری تربیت دی جائے جو بنگالی قوم پرست مسلح تنظیم مکتی باہنی کے مقابلے کے لیے فوج کا دست و بازو بن سکیں۔

مکتی باہنی عوامی لیگ کے حامیوں پر مشتمل تھی اور انہیں عسکری تربیت کی سہولت مبینہ طور پر بھارتی فوج کی جانب سے سرحد پار قائم کیمپوں میں فراہم کی گئی تھی۔

البدر کے قیام کے لیے افرادی قوت جماعت اسلامی نے فراہم کی جو جماعت سے منسلک طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل تھی جبکہ الشمس میں دینی مدارس کے طلبہ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ اور نظام اسلام پارٹی کے بعض کارکن شامل تھےـ

عسکری تربیت، اسلحہ اور دیگر ضروری وسائل مبینہ طور پر فوج کے متعلقہ شعبوں نے فراہم کر دیے۔ البدراور الشمس کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ان قوم پرست بنگالی دانشوروں طلبہ اساتذہ اور سیاسی رہ نماؤں کو ہدف بنائے جن کی فہرست فوجی حکام نےمرتب کی تھی ـ

واشنگٹن میں پاکستان کے موجودہ سفیر حسین حقانی اپنی کتاب ’ In Between Mosque and Military‘ میں لکھتے ہیں کہ ’مارچ انیس سو اکہتر میں بائیں بازو کے بنگالی دانشوروں، صحافیوں، طالب علموں اور سیاسی رہنماؤں کی فہرست مرتب کی گئی جنہیں راہ سے ہٹانا مقصود تھا اور یہ ذمہ داری البدر اور الشمس کے سپرد کی گئی‘۔

سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کو پاکستان کی فوج نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جس کے ساتھ ہی البدر اور الشمس بھی منظر سے غائب ہو گئیں۔ ان کے جنگجو یا تو نئے ملک بنگلہ دیش سے فرار ہو گئے یا زیر زمین چلے گئے۔

بنگلہ دیش کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے بنگالی قوم پرست گروپ مکتی باہنی نے موقع ملتے ہی البدر اور الشمس کے کارکنوں کو چن چن کر ختم کر دیا۔ بعض پھر بھی بچ گئےلیکن غیر فعال ہوگئے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور جماعت کے پالیسی امور کے ذمہ دار سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں جماعت اور البدر کے تعلق کے ساتھ ساتھ البدر اور فوج کے تعلق پر کھل کر بات کی۔

’جب حالات نے پچیس مارچ انیس سو اکہتر کو ٹرن لیا تو البدر تحریک اسلامی سے متعلقہ لوگوں نے بنائی۔ اس میں اسلامی جمعیت طلبہ زیادہ پیش پیش تھی۔ جماعت کے کارکن بھی رہے اور باقی لوگ بھی آئے۔ البدر کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں ۔ مکتی باھنی کے ساتھ ان کا مقابلہ ہوا، اس میں مکتی باہنی کے لوگ بھی مارے گئے، ہمارے لوگ بھی مارے گئے۔ اور وہ نہ وار کرائمز تھے نہ کسی قسم کی ایسی چیز تھی کہ جسے نسل کشی کہا جا سکے اور میں بہت واضح یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ وہ تمام افراد مشرقی پاکستان کی دھرتی کے بیٹے تھے اوراس کے اندر کوئی بیرونی ہاتھ نہیں تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ البدر کا کوئی ڈھانچہ نسلی امتیاز پر مبنی نہیں تھا بلکہ وہ وہی افراد تھے جن کا تعلق اس سرزمین کے ساتھ ہے اور وہ پاکستان کےساتھ اپنا تعلق رکھنا چاہتے تھے اور اسی مقصد کی خاطر انہوں نے یہ کردار ادا کیا لیکن ہمیں فوج نے دھوکہ دیا اور ہمیں ہرگز اعتماد میں نہیں لیا گیا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، کیا کرنا چاہتے ہیں حتیٰ کہ جب انہوں نے سرنڈر کیا ہے تو اس سے چوبیس گھنٹے پہلے ہمارے نوجوانوں سے کہا کہ ’تم اپنا کچھ کر لو ہم تو جا رہے ہیں’۔ یہ ایک بڑا تلخ تجربہ تھا یہ بالکل حقائق ہیں جو میں آپ کو بالکل بے لوث انداز میں بتا رہا ہوں‘۔

اس سوال پر کہ البدر سے منسلک رضاکاروں کو سرمایہ، تربیت اور اسلحہ کس نے فراہم کیا پروفیسر خورشید احمد کا کہنا تھا کہ ’میں اس ضمن میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں لیکن اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ اس پورے عرصے میں خود لوگوں نے بھی انتظامات کیے اور غالباً پاکستان کی فوج نے بھی ان کی مدد کی‘۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے سن دو ہزار نو میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان پر بغاوت اور بنگالیوں کی نسل کشی کا مقدمہ پھر کھول دیا ان پر الزام ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران مزاحمت کرنے والے البدر جنگجوؤں کی قیادت کرتے رہے ہیں۔