ننگا بادشاہ، پاکستان اور انا ہزارے!

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لاکھوں بچوں کی طرح میں نے بھی ڈینش ادیب ہینس کرسٹن اینڈرسن کی کہانی ’دی ایمپررز نیو کلودز‘ پڑھی اور یاد رکھی ہے۔ جس میں کپڑوں کے شوقین بادشاہ کو ایک جولاہا یہ کہہ کر بےوقوف بناتا ہے کہ میں نے آپ کے لیے جو پوشاک تیار کی ہے وہ صرف عقلمند لوگوں کو ہی نظر آئے گی۔ بادشاہ اور اس کے درباریوں سمیت کوئی بھی خود کو بےوقوف کہلوانے کے لیے تیار نہیں ہوتا لہٰذا جب بادشاہ یہ ’پوشاک‘ پہن کر جلوس کرتا ہے تو سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ بادشاہ ننگا ہے اور اسے جولاہے نے بےوقوف بنایا ہے۔ سرقلم کیے جانے کے خوف سے یہ کوئی نہیں کہتا لیکن جلوس میں شامل ایک بچہ بول پڑتا ہے بادشاہ ننگا ہے، ننگا ہے ننگا ہے۔ اور اس طرح یہ بچہ پورے مجمع کو زبان دےدیتا ہے۔ خاموشی کانا پھونسی اور کانا پھونسی شور میں بدل جاتی ہے ۔۔۔ ننگا ہے، ننگا ہے، بادشاہ ننگا ہے!

انا ہزارے کون؟

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن کی فہرست میں پاکستان سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت سے اوپر ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی گاؤں سے کوئی بابو راؤ انا ہزارے نہیں اٹھ پا رہا؟ حالانکہ پاکستانی عوام چوبیس گھنٹے میں ایک دوسرے کو جتنے بھی ایس ایم ایس فارورڈ کرتے ہیں ان میں سے لگ بھگ تینتیس فیصد کرپشن اور روزمرہ مسائل کے لطائف پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بھی تقریباً روزانہ کرپشن اور بدانتظامی پر بات ہوتی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے حالات و معاملات کے بارے میں بھی دلچسپی اور تجسس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بالی وڈ کی جو فلم جس دن ممبئی میں ریلیز ہوتی ہے وہ اسی دن یا اگلے روز پاکستانی سینما، کیبل یا گھروں میں موجود ہوتی ہے۔ انڈر ورلڈ اور کرپشن کے موضوع پر جو فلم بھارت میں ہٹ ہوتی ہے پاکستان میں بھی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انا ہزارے نے تہاڑ جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا ہے۔

جس طرح بھارت آسمان سے تارے توڑ کر ووٹر اور سائل کی جھولی میں بھرنے والےسیاسی و روحانی سناسیوں سے بھرا پڑا ہے اسی طرح پاکستان کے چپے چپے پر ایک سے ایک چمتکاری مدار چاہے کرپٹ ہے یا نہیں یہی ڈگڈگی بجا رہا ہے کہ ہمیں کرپشن جڑ سے اکھاڑنا ہوگی۔

یہاں لاشوں، زخمیوں اور بیماروں کو ڈھونے والی ایدھی ایمبولینسیں دوڑتی پھرتی ہیں۔ شہزاد رائے لگا رہ، لگا رہ، لگا رہ گا گا کر گلا بٹھا رہا ہے۔ ایک موبائل کمپنی کی اشتہاری مہم کا موضوع ہی خاموشی کا بائیکاٹ ہے۔

مگر انا ہزارے کہاں ہے؟

عام آدمی پولیس، سینٹری انسپکٹر، سڑک اور بند بنانے والے ٹھیکیدار، جعلی دواؤں اور بوتل بند پانی کے کاروبار، شوگر مافیا، قبضہ و بھتہ مافیا، نامعلوم قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو ننگی گالیاں بھی دے رہا ہے، آنکھوں کے سامنے لاش گرتے یا سالم بندہ غائب ہوتے بھی دیکھ رہا ہے۔ تھانوں کا گھیراؤ کر رہا ہے، سڑک پر لاش کے ساتھ دھرنا بھی دے رہا ہے لیکن یہ عام آدمی بھی شائد خود غرض احتجاجی ہے۔ وہ اپنے جیسے دوسروں کے لیے نہیں چیختا بلکہ تب چیختا ہے جب کوئی اپنا مر جائے یا غائب ہوجائے، خود لائن میں لگنا پڑے، خود بھتا دینا پڑے، اندھیرے میں رہنا پڑے ۔

کس لیڈر نے کتنی ٹیکس چوری کی، کس رکنِ پارلیمان نے کتنا گھپلا کیا، کس جنرل نے کس منصوبے میں کتنے پیسے کھائے، کس جج نے کیا مراعات لے لیں، کونسا صحافی یا صحافن کس کے خرچے پر حج کر آئے۔ یہ سب اعداد و شمار ہر ٹی وی اینکر کو زبانی یاد ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ اینٹی کرپشن جہادی ہیں بلکہ اس لیے کہ چینل کی ریٹنگ کا مسئلہ ہے اور اشتہارات ریٹنگ سے وابستہ ہیں۔

یہاں کے دانشور فیض احمد فیض کی جنم صدی مناتے ہوئےجھوم رہے ہیں،

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

مگر بابو راؤ انا ہزارے کہاں ہے؟

ہوسکتا ہے کہ اس قوم کی معصومیت، سادگی اور اعتماد کو اس قدر زک پہنچائی جا چکی ہو کہ اب وہ اپنے سائے پر بھی یقین کرنے کو تیار نہ ہو، یا بے یقینی کا زہر رگوں میں اتنا اتر چکا ہو کہ یہ بتانا بھی دشوار ہو کہ ہجوم میں شامل جو ایک شحض ایمانداری کے ساتھ کچھ الگ سا لگنے یا کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی سنجیدہ شخص ہے یا مسخرہ!

یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کہیں اگر کوئی انا ہزارے پیدا ہوتا ہو تو اسے آگے بڑھنے سے پہلے ہی کارا مشہور کر کے قتل کر دیا جاتا ہو، بھینس چوری کے الزام میں پولیس لاک اپ میں ٹارچر کر کے مار دیا جاتا ہو، ٹارگٹ کلنگ ہو جاتی ہو، غائب ہوجاتا ہو، چارج شیٹ مل جاتی ہو، تبادلہ ہوجاتا ہو، او ایس ڈی بن جاتا ہو، گھر بیٹھ جاتا ہو، ملک سے بھاگ جاتا ہو یا گاؤں، محلے اور محکمے میں پاگل، چریا، کھسکا ہوا مشہور ہوجاتا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انا ہزارے کی بدعنوانی کے خلاف مہم میں عوام جوق در جوق ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں

یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی فضا اتنی تنگ ہوچکی ہو کہ کرپٹ نظام کے خلاف تشدد سے پاک قومی تحریک ابھرنے کا فیشن ہی نہ رہا ہو۔ یہ نظام دہشت گرد تو پیدا کر سکتا ہو مگر عقل کی آواز اور اجتماعیت کی پکار سننے سے قاصر ہو۔ قوم کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ انسانی ریوڑ بن گئی ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ سب ہی سوچ رہے ہوں کہ کرپشن اور بد انتظامی کے خلاف اجتماعی جدوجہد سے کہیں آسان ہے کہ خود کرپٹ ہوجائیں؟ کسی کا داؤ لگ گیا، کوئی داؤ لگنے کے انتظار میں ہے اور کسی کے دل میں داؤ لگانے کی اگر صلاحیت نہیں تو حسرت ضرور ہے!

انا ہزارے جیسے چند لوگ راتوں رات نظام نہیں بدلتے۔ صرف یہ بتا دیتے ہیں کہ ہم روبوٹ، بت، گدھے یا بھینس نہیں ہیں۔

مگر اس کے لیے ہجوم میں شامل کسی ایک بچے کو ایک نا ایک دن ضرور باآوازِ بلند کہنا پڑتا ہے ’بادشاہ ننگا ہے‘۔