حرکت المجاہدین

حرکت المجاہدین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل اسلام آباد میں منعقدہ جہاد کانفرنس میں۔ اسلام آباد۔ فوٹو وژول نیوز پاکستان۔

جب افغانستان سے روسی فوجوں کاانخلاء نوشتہ دیوار تھا اور افغان جنگجوؤں کی طرف سےمزاحمت کی جنگ اختتام کے قریب تھی تب مولانا فضل الرحمان خلیل نے حرکت الجہاد الاسلامی سے علیحدگی اختیار کر کےحرکت المجاہدین کے نام سے الگ گروپ قائم کر لیا۔

افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلاء تک حرکت المجاہدین حزب اسلامی یونس خالص گروپ کے حصے کے طور پر متحرک رہی اس دوران پسپا ہوتے ہوئے روسی فوجیوں کے خلاف افغان جنگجوؤں کی طرف سے جو بڑے آپریشن کیے گئے حرکت المجاہدین نے ان میں اہم کردار ادا کیا۔

افغان صوبے خوست میں مشترکہ دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے مولانا فضل الرحمان خلیل اور اوسامہ بن لادن کے درمیان اعتماد اور دوستی کا جو رشتہ قائم کیا آئندہ چل کر اس نے کئی رنگ دکھائے۔

افغان جنگ کے اختتام پر حرکت المجاہدین کی سرگرمیاں مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ اداروں کی ایماء پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر منتقل کر دی گئیں تا کہ بھارتی فوج کو مصروف رکھا جا سکے ۔