جیش محمد

جیش محمد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیش محمد کے بانی سربراہ مولانا مسعود اظہر اپنی تنظیم پر پابندی کے بعد پولیس کی حراست میں ہیں۔ مارچ 2002۔ فوٹو اے پی۔

مولانا مسعود اظہر کی قیادت میں قائم ہونے والی جنگجو تنظیم جیش محمد کے قیام کی کہانی مختصر لیکن ہنگامہ خیز ہے۔

دسمبر انیس سو ننانوے میں بھارتی مسافر طیارے کے اغواء کے نتیجے میں عمر سعید شیخ اور مشتاق زرگر کے ہمراہ کشمیر کی جیل سے رہائی کے فوری بعد مولانا مسعود اظہر نے راولپنڈی میں حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل سے ملاقات کی جس میں تنظیمی امور پر بات چیت کی گئی۔

حرکت کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات اس حوالے سے کوئی زیادہ خوشگوار نہیں کہی جا سکتی کیونکہ مولانا مسعود اظہر نے تنظیم میں بڑی ذمہ داری کا مطالبہ کیا جب کہ مولانا فضل الرحمان خلیل نے انہیں کچھ عرصے کے لیے خاموش رہنے کا مشورہ دیا اور اس طرح معاملات طے نہ پا سکے۔

مولانا مسعود اظہر نے کچھ ہی دنوں کے بعد جنوری دو ہزار میں کراچی میں پہلی ریلی کے دوران جیش محمد کے قیام کا اعلان کر دیا۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں جیش محمد کا خاکہ یقینی طور پر مولانا مسعود اظہر نے قید کے دوران ہی تیار کر لیا تھا یہی وجہ ہے کہ انہیں قید سے رہائی کے فوری بعد اس کے اعلان میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔

لیکن جنگجوؤں اور اثاثوں کی تقسیم پر جیش محمد اور حرکت المجاہدین کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔ سرکاری اداروں کی طرف سے معاملے میں عدم دلچسپی کے بعد فریقین نے مشترکہ بزرگ مفتی نظام الدین شامزئی کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے تنازعہ طے کرانے میں مدد کی۔

مولانا مسعود اظہر نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جیلوں میں گزارے ہوئے لمحات کا بدلہ مہینوں بلکہ ہفتوں میں چکانے کی کوشش کی اس دوران انہوں نے متعدد ایسی کارروائیاں بھی کیں کہ خود ان کے سرپرست بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے۔

اکتوبر دو ہزار ایک میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی عمارت پر خود کش حملے میں تیس لوگ مارے گئے اس ی ذمہ داری جیش محمد پر عائد کی گئی۔

دسمبر دو ہزار ایک میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ ہو یا دو ہزار دو کے اوائل میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا قتل، جیش محمدکے نام کی باز گشت ہر اہم واقعے کے ساتھ سنی گئی۔

ڈینئل پرل کے قتل میں القاعدہ کے اہم رہنما خالد شیخ محمد کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد جیش اور القاعدہ کے درمیان روابط کا پتا دیتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور برطانیہ نے بھی بہت جلد جیش کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا اور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے بھی جنوری دو ہزار دو میں جیش کو خلاف قانون قرار دے کر پابندیاں عائد کر دیں اور مولانا مسعود اظہر کو نظر بند کر دیا گیا۔

لیکن ان کی قیادت میں تنظیم خدام الاسلام کے نام سے کام کرنے لگی، جب کہ جیش محمد کا ایک اور دھڑا جماعت الفرقان کے نام سے مولانا عبدالجبار کی قیادت میں متحرک ہو گیا۔

دو ہزار تین میں ان دونوں تنظیموں کو بھی مشرف حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا لیکن ان کی سرگرمیوں میں عملی رکاوٹ نہ ڈالی جا سکی۔

دسمبر دو ہزار تین میں مولانا عبدالجبار کو صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے حراست میں لیا گیا لیکن دو ہزار چار میں رہا کر دیا گیا۔

بظاہر جیش محمد اس وقت غیر فعال ہو چکی ہے لیکن بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں ان تنظیموں کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں۔