انجمن سپاہ صحابہ

انجمنِ سپاہ صحابہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انجمن سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل، سینیٹر سمیع الحق اور ایک عرب سفارتکار کے ہمراہ۔ تصویر وژول نیوز پاکستان۔

سنہ انیس سو پچاسی میں انجمن سپاہِ صحابہ کے قیام کی وجہ ایرانی انقلاب کا ردعمل اور پاکستانی فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کی اسلامائزیشن کی پالیسی کو قرار دیا جاتا ہے۔

لاہور کی جی سی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران جنہوں نے سپاہ صحابہ کے قیام پر خاصی تحقیق کر رکھی ہے کہتے ہیں ’فرقہ واریت کے بارے میں جتنی بھی تحقیق ہوئی اس میں اس عفریت کی پیدائش کے تانے بانے ضیا الحق کی اسلامائزیشن، افغان جنگ اور دیوبندی مدرسوں کے فروغ سے جڑتے ہیں‘۔

انیس سو اناسی میں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر علامہ ساجد نقوی نے ’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ’ کی بنیاد رکھی تو جنوبی پنجاب کے شہر جھنگ میں دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا حق نواز جھنگوی نے انہیں چیلنج کیا۔ یہ سلسلہ جلد ہی ایک مہم میں تبدیل ہو گیا جو آڈیو کیسٹس کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔

انیس سو پچاسی میں مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا ضیا الرحمان فاروقی، مولانا ایثار القاسمی اور مولانا اعظم طارق نے باقاعدہ طور پر انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی اور یوں دیو بندی مکتبہ فکر کے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان دلائل کی جنگ شروع ہوئی۔

مناظرے اور مباہلے کے چیلنجوں پر مبنی لفظوں کی یہ جنگ اس وقت خونی معرکے کی بنیاد بن گئی جب انیس سو اٹھاسی میں افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے پارہ چنار میں تحریک جعفریہ کے رہنما علامہ عارف حسین الحسینی کو قتل کر دیا گیا جس کے ڈیڑھ سال بعد انیس سو نوے میں سپاہ صحابہ کے رہ نما مولانا حق نواز جھنگوی کو بم حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

مبینہ طور پر مولاناحق نواز جھنگوی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے لاہور میں تعینات ایرانی قونصلر جنرل صادق گنجی کو قتل کر دیا گیا۔

صادق گنجی کے قتل کی ذمہ داری سپاہ صحابہ کے جنگجو ریاض بسرا پر عائد کی گئی۔ ریاض بسرا کے خلاف پنجاب پولیس نے راولپنڈی میں ایرانی فضائیہ کے زیر تربیت عملے پر حملہ کیس میں بھی تفتیش کی۔

سپاہ صحابہ کی بانی قیادت جس میں مولانا حق نواز جھنگوی کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی، مولانا ضیاء الرحمان فاروقی اور مولانا اعظم طارق نمایاں تھے، شیعہ سنی تنازعہ کی بھینٹ چڑھ گئے۔

سپاہ صحابہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ تھی۔ مولانا ایثارالقاسمی ایک بار اور مولانا اعظم طارق تین بار جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اگست دو ہزار ایک میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے سپاہ صحابہ سمیت سات تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا لیکن نومبر دو ہزار دو میں جیل میں بند مولانا اعظم طارق کو اس لیے رہا کر دیا گیا تا کہ وہ وزارت عظمٰی لیے صدرمشرف کے حمایت یافتہ امیدوار میر ظفراللہ جمالی کو واحد اکثریتی ووٹ دے سکیں۔

ڈاکٹر طاہر کامران کا کہنا ہے کہ جب سپاہ صحابہ پر سرکاری پابندی عائد کی گئی اس وقت تک یہ تنظیم اس قدر مضبوط ہو چکی تھی کہ عملی طور پر ملک کے چوہتر اضلاع پر اس کا کنٹرول تھا جہاں مقامی انتظامیہ اس تنظیم کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی۔

انکے مطابق اس تنظیم کے تحصیل کی سطح پر دو سو پچیس یونٹس بن چکے تھے۔ غیر ملکی سطح پر یہ تنظیم اپنے غیر ملکی سرپرستوں کے طفیل اس قدر پھیل چکی تھی کہ سعودی عرب سے کینیڈا تک سترہ ملکوں میں اس کا اثر و نفوذ پایا جاتا تھا۔ سپاہ صحابہ کے تربیت یافتہ اور پیشہ ور کارکنوں کی تعداد چھ ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

دو ہزار تین میں سپاہ صحابہ نے نئے نام ’ملت اسلامیہ پاکستان’ کے نام سے سرگرمیاں شروع کر دیں لیکن اسی سال اس نام پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ ان دنوں تنظیم میں شامل افراد ’اہل سنت والجماعت‘ کے نام سے کام کر رہے ہیں اور تنظیم کی قیادت مولانا محمد احمد لدھیانوی کے پاس ہے۔