دہشت گردی: پرانے قوانین اور کمزور استغاثہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والے شدت پسند: فائل فوٹو

پاکستان میں شدت پسندی کی وارداتوں کے مقدمات میں ملوث ملزمان کی متعقلہ عدالتوں سے رہائی کی بڑی وجوہات میں کمزور استغاثہ اور ملک میں رائج انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم میں التواء ہیں۔

امریکہ میں نائن الیون واقعہ کو ایک عشرہ گُزر گیا ہے اور اس واقعہ کے بعد امریکی حکومت نے شدت پسندی کے واقعات کو روکنے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے نہ صرف ملک میں رائج قوانین کا از سرِنو جائزہ لیا گیا بلکہ ان قوانین کو سخت بھی کیا گیا۔

امریکہ میں بنائے گئے پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت نہ صرف مشکوک افراد کو تفتیش کے سلسلے میں کئی کئی ماہ تک حراست میں رکھا جاتا ہے۔ اور ایسے افراد کے لیے امریکہ سے باہر گوانتناموبے میں بھی حراستی مرکز بنائے گئے جہاں پر اب بھی پاکستان، افغانستان اور دیگر علاقوں سے گرفتار ہونے والے افراد سے تفتیش ہو رہی ہے۔

پرانے قوانین اور کمزور استغاثہ: سنیے

اس وقت پاکستان میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اُنیس سو ستانوے رائج ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت خودکش بم دھماکوں اور شدت پسندی کے دیگر واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ ایسے مقدمات کی سماعت کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالتیں قائم کی گئیں۔

اس ایکٹ کے تحت تفتیشی پولیس افسر کو اپنی تفتیش پندرہ روز کے اندر مکمل کر کے چالان متعلقہ عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ نہ تو تفتیش پندرہ روز میں مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی مقدمے کا فیصلہ سُنایا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ہے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل۔ رواں سال چار جنوری کو سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے محافٌظ نے اعتراف جُرم بھی کر لیا ہے لیکن ابھی تک اس مقدمے کا فیصلہ نہیں سُنایا گیا۔سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کو بھی تین سال سے زائد عرصہ گُزر چکا ہے لیکن ابھی ملزمان پر فرد جُرم بھی عائد نہیں کی جاسکی۔

امریکہ نے 2010 کی اپنی ایک سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ قوانین دہشتگردی میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کے قابل نہیں ہیں اور ان مقدمات میں ملزمان کے بری ہونے کی شرح پچھہتر فیصد ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے اس سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلوں کی جانچ پڑتال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزا دلوانے میں پرعزم ہیں لیکن ملک کے موجودہ قوانین میں ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اتنے زیادہ اختیارات نہیں ملے جس کی توقع کی جارہی ہے۔

’پولیس کی موجودگی میں ملزمان کا اعتراف جُرم کسی بھی عدالت میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اُنہوں نے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت قانونِ شہادت میں ترمیم کرتی اور پولیس کو دیا جانے والا ملزم کا بیان عدالت میں تسلیم کیا جاتا۔ اس کے علاوہ پولیس کو اختیارات دیے جاتے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو جس پر شک ہو کہ وہ کسی شدت پسندی کے واقعہ میں ملوث ہے اُسے تین سے چھ ماہ تک قید رکھ سکتا۔‘

ذوالفقار نقوی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ادارہ کسی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے مشکوک شخص کو تفتیش کے لیے لے جائے تو اُس سےمتعلق عدالتوں میں لاپتہ ہونے سے متعلق رٹ دائر کر دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام احسن طریقے سے نہیں کر پاتے۔

انہوں نے اس سلسلے میں حال ہی میں اڈیالہ جیل سے گیارہ قیدی رہا ہونے کی مثال دی۔ ’جو گیارہ قیدی جیل سے رہا ہوئے اُنہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اُٹھا کر لے گئے۔ اس عمل کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی جس کے بعد خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے عدالت کو بتانا پڑا کہ یہ افراد فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ مؤثر قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ماورائے عدالت قتل اور گمشدگی کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت گُزشتہ تین سال کے دوران تین ہزار سے زائد شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے اکثریت کو صوبہ خیبر پختونخوا سے گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے اکثریت کو عدالت نے کمزور استعاثہ اور عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔

اس سے پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے چھ ہزار کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا جس میں سے ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں سے ان افراد کی رہائی کے بعد ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ عدالتوں سے رہائی کے بعد اس بات کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں کہ وہ شدت پسندی کی کارروائیوں میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد کے کالعدم تنظیموں سے متعلق جو رابطے خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اکھٹے کرتے ہیں اُن کو عدالتیں تسلیم نہیں کرتیں۔

وزیر داخلہ کے بقول انسداد دہشت گردی کے موجودہ ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پڑا ہوا ہے لیکن اس معاملے میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ماہر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ شدت پسندی کے واقعات کو روکنے اور ان واقعات میں ملوث ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بہتر قانون سازی کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

’وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی طرف سے ایک بل آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات کو روکنے کے لیے نئی قانون سازی کرنا پڑے گی یا پھر موجودہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاہم ابھی تک یہ بل زیر غور ہے۔‘

ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں یہ قانون بنایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے جس کو اُس وقت کی سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔

’دیگر ممالک کی عدالتوں میں ایسے مقدمات میں نہ تو جج کو اور نہ ہی اس مقدمے کے گواہوں کو ملزمان کے سامنے لایا جاتا ہے بلکہ دیگر ملکوں میں ملزمان کا پولیس کی تحویل میں دیے جانے والے بیان کو عدالتیں تسلیم کرتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔‘

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش کرنے والے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو پہلے تو فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی تفتیش کے لیے لے جاتی ہے جہاں پر ان ملزمان سے صرف اس ایجنسی کے اہلکار ہی تفتیش کرتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنے کے بعد افراد کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مقدمات درج ہونے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے اس لیے پولیس کے پاس کم وقت بچتا ہے کہ وہ اس معاملے کی صحیح معنوں میں تفتیش کرسکیں۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے مقدمات سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی گئی۔

اُنہوں نے کہا ’پولیس اہلکاروں کو ابھی تک اس بات کی بھی آگہی نہیں ہے کہ بم دھماکوں اور شدت پسندی کے واقعات کے جائے حادثہ سے کون کون سے شواہد اکھٹے کرنا ہے۔ حکومت قانون نافد کرنے والے اداروں کے لیے نہ صرف جدید سازو سامان خریدے بلکہ ان اداروں کے اہلکاروں کو بھی جدید خطوط پر تفتیش کرنے کی تربیت بھی دے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس معاملے کی نزاکت سے پہلو تہی کرتی رہی تو ملک میں شدت پسندی کے خاتمے کی بجائے اس میں اضافہ ہوگا اور اس بات کا امکانات واضح ہیں کہ جس طرح ابھی تک احتساب کا بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا اُسی طرح انسداد دہشت گردی ایکٹ میں بھی ترامیم نہیں ہوں گی۔

اسی بارے میں