’معاشرے کے مسائل کو سامنے لا کھڑا کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دس سال ہو گئے ہیں اور ہمیں کم سے کم آنے والے دس سالوں تک تو اس کے اثرات برداشت کرنا پڑیں گے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کی پچین فیصد سے زیادہ نوجوان نسل کی نمائندگی کرنے والے چھبیس سالہ محمد فرقان کا۔

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہوئی جنگ کو دس سال بیت چکے ہیں۔ اس جنگ سے جہاں پاکستان کی معیشت، سیاست اور طرز زندگی متاثر ہوئی ہے وہیں پاکستان کی نوجوان نسل پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔

9/11 کے نوجوان نسل پر اثرات: سنیے

اسی سلسلے میں حال ہی میں پاکستان میں سکیورٹی امور کی ماہر عائشہ صدیقہ نے ایک سروے پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے ’از دا یوتھ ان ایلیٹ یونیورسٹیز ان پاکستان ریڈیکل؟‘ یعنی کیا پاکستان کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے شرفاء انتہا پسند ہیں؟

عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ غربت اور تعلیم کی کمی فطری طور پر انتہا پسندی پھیلانے کی وجہ نہیں ہے۔ ’بلکہ پاکستان کی بڑی اور بھاری فیس لینے والی مہنگی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم نوجوان بھی اپنے خیالات میں انتہا پسند ہیں۔‘

ملک بھر کی چودہ یونیورسٹیوں کے ڈھائی ہزار سے زیادہ طلبہ و طالبات سے تفصیلی انٹرویو پر مبنی اس رپورٹ کے بارے میں عائشہ صدیقہ نے مزید بتاتے ہوئے کہا ’ان طلبہ کے خیالات چاہے مختلف ہی کیوں نا ہوں مگر ان کے پیچھے جو انتہا پسندی کی سوچ ہے وہ سروے میں شریک کم و بیش تمام طلبہ میں نظر آئی۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق ان یونیورسٹیز میں تقریباً چھپن فیصد نوجوانوں نے پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کی مخالفت کی ہے۔‘

عائشہ کہتی ہیں ’عمومی طور پر عالمی دنیا اور باالخصوص امریکہ مخالف نظر ہی سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ، سنی اور احمدی فرقے سے متعلق ان ہائی فائی یونیورسٹیز میں پڑھنے والے نوجوانوں کے خیالات ایک مدرسے جانے والے طالب علم کے نظریات سے زیادہ مختلف نہیں۔‘

نائن الیون کے پاکستان کے نوجوانوں پر اثرات کے حوالے سے اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے عمران خان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستانی نوجوان نسل دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔ ’ایک وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ طالبان کی امریکہ کے خلاف جنگ مغربی استمار کے خلاف ہے اور اسلام کے حق میں ہے اس لیے وہ ہیرو ہیں۔ دوسرا دھڑا وہ ہے جو طالبان کو دہشت گرد مانتا ہے اور انہیں انسانیت کا دشمن کہتا ہے۔ اس لیے نوجوان نسل میں موجود نظریاتی تفریق نہ صرف واضح ہوئی ہے بلکہ خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔‘

مصنف اور تھیٹر سے منسلک فِضہ زہرہ اس سلسلے میں کہتی ہیں ’اگر بچپن کے واقعات کی بنا پر انتہا پسندی کسی شحضیت کا حصہ ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اوباما ہیں یا اسامہ۔‘ ان کے مطابق بعض پاکستانی گھرانوں میں بچوں کی تربیت میں ہی یہ شامل کر دیا جاتا ہے کہ آپ کا مذہب سب سے افضل ہے اس لیے بڑے ہو کر نوجوانوں میں دوسرے مذاہب کے اقدار اور معاشرے کی روایت کو سراہنے یا برداشت کرنے کا مادہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔

’نائن الیون کے بعد لبرل اور سخت گیر مذہبی خیالات دونوں کی حمایت کرنے والے نوجوان اپنے موقف پر ڈٹ گئے ہیں اور ایک دوسرےکی بات سننے کو کوئی بھی تیار نہیں۔‘

فضہ کے مطابق ’اگر پاکستان میں امریکی سفارتخانہ ہم جنس پرستوں کا تہوار نہیں منا سکتا تو پھر فرانس نے خواتین کے نقاب پر پابندی عائد کر کے کیا غلط کیا ہے؟ اس جنگ کے نتیجے میں نوجوان نسل کی جذباتی اور ذہنی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اور اسی وجہ سے یہ نسل پہلے سے زیادہ ابہام کا شکار ہوئی ہے۔‘

فرقان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پر حملہ کر کہ شدت پسندوں نے انسانیت پر تشدد کیا ہے تو اس کے جواب میں بھی انہیں بھی تشدد ہی ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے انسانیت کے دشمن ہیں تو اس طرح تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ ’نائن الیون کی اس جنگ میں یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ کون غلط یا صحیح ہے۔ اور ویسے بھی اگر آ پ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر چلے جائیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی نام نہاد لبرل یوتھ بھی اپنے خیالات میں کافی حد تک انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ تو پھر ان میں اور طالبان میں کیا فرق ہے۔‘

چھبیس سالہ سماجی کارکن عمران خان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ’پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے نام پر انسانوں کے بنائے گئے ناموس رسالت کے قانون پر قتل و غارت کی گئی ہے۔‘

ان کے مطابق نائن الیون کے بعد پاکستان کی نوجوان نسل میں مذہبی انتہا پسندی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ’لیکن اس کی وجہ صرف نائن الیون ہی نہیں بلکہ اس کی ذمہ دار پاکستانی فوج بھی ہے۔ شدت پسندوں سے متعلق اپنے مفادات کے مطابق بدلتی ہوئی پاکستانی فوج کی کبھی دوست اور کھبی دشمن والی پالیسیوں نے نوجوانوں کی کشمکش میں اضافہ کیا ہے۔‘

نوجوانوں میں شدت پسندی کے رجحانات کے بارے میں عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جنرل ضیاء الحق کی بات تو سب ہی کرتے ہیں مگر نوے کی دہائی کا ذکر اتنا نہیں ہوتا۔ ’نوے کی دہائی کے دوران ایک خاص طرح کے اسلام کی ترغیب دینے والے، فرقہ وارنہ تفریق پھیلانے والے ادارے الھدیٰ اور تبلیغی جماعت جیسی موومنٹس ملک بھر میں اس حد تک پھیل گئیں کہ انہوں نے پاکستان کی اپر اور اپر مڈیل کلاس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔‘

ایم بی اے کی ڈگری رکھنے والے اٹھائس سالہ امان ترین کا کہنا ہے کہ ’نائن الیون ایک پروپیگنڈا وار تھی اور بعض مقامی میڈیا بھی اس پروپیگنڈا کا حصہ بنا، خود میڈیا سے منسلک امان ترین کے خیال میں بعض خبر رساں اداروں نے ذاتی مفادات کے لیے اس جنگ کے دوران نوجوان نسل کے جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ’یہ سب مسائل ہمارے معاشرے میں نائن الیون سے پہلے بھی موجود تھے مگر نائن الیون کی سیاست نے اس مسائل کو بھرپور طاقت کے ساتھ ہمارے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔‘

اسی بارے میں