’دس برس بعد بھی زندگی غیرمحفوظ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی ’وار آن ٹیرر‘ یا دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کے جس علاقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ اس وقت کا شمال مغربی سرحدی صوبہ یا آج کا خیبر پختونخواہ ہے۔

نائن الیون سے جنم لینے والی جنگ نے پچھلے دس سالوں کے دوران اس صوبہ کے چند ہی شہر ایسے ہوں گے جو دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ رہے ہیں۔

ابتداء میں جب دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا آغاز ہوا تو اس وقت اس کا محور افغانستان اور پھر بعد میں پاکستان کے قبائلی علاقے رہے لیکن رفتہ رفتہ اس کے اثرات نے خیبر پختونخوا کے اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دو ہزار سات میں جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا وجود عمل میں آیا تو اس کے بعد اس علاقے میں دہشتگردی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

خیبر پختونخوا میں سب سے پہلے اس جنگ کا نشانہ وادی سوات بنی جہاں دو چھ سے دو ہزار نو تک مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان شدید لڑائیاں ہوتی رہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع بونیر، دیر اپر، دیر لوئر، شانگلہ اور مالاکنڈ ایجنسی تک بھی دیکھے گئے تاہم دو ہزار نو میں مالاکنڈ میں ہونے والے موثر فوجی آپریشن کے نتیجے میں اس ڈویژن کے زیادہ تر اضلاع سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا اور اب یہاں صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔

جس وقت سوات میں طالبان سرگرم تھے عین اسی وقت صوبہ کے دیگر اضلاع پشاور، چارسدہ، مردان، نوشہرہ، ہنگو، کوہاٹ، بنوں ، ڈیرہ اسمعیل خان، ٹانک اور ہزارہ ڈویژن کے چند اضلاع میں بھی عسکریت پسندوں کی کاروائیاں عروج پر تھیں۔

خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر احمد بلور اس کی وجہ جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایک فوجی آمر کے یو ٹرن کی وجہ سے آج پورا خطہ ایک شدید جنگ کی لپیٹ میں آچکا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس جنگ کے باعث صرف فاٹا اور خیبر پختونخوا میں قریباً پینتیس ہزار افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں پانچ ہزار سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ آٹھ ہزار کے قریب اہلکار معذور ہوئے ہیں‘۔

ان کے بقول گزشتہ سات آٹھ سالوں کی کشیدگی کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر پچاس ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جس میں زیادہ تر نقصانات اسی صوبے میں ہوئے ہیں۔

Image caption اس عرصے کے دوران بدامنی کے واقعات میں اضافے کی جہ سے صوبے میں حکومت کی عملداری بھی انتہائی کمزور ہوتی گئی

اس عرصے کے دوران بدامنی کے واقعات میں اضافے کی جہ سے صوبے میں حکومت کی عملداری بھی انتہائی کمزور ہوتی گئی۔

ابتداء میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے زیادہ تر حملوں اور دھماکوں کا نشانہ سکیورٹی اہلکار تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس فورس پر حملوں میں اتنا اضافہ ہوا کہ وہ خوف کی وجہ سے تھانوں سے باہر نکل سکتے تھے اور نہ سڑکوں پر گشت کر سکتے تھے۔

یہی نہیں بلکہ چند اضلاع میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے سامنے ہتھیار تک ڈال دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائر سعد کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عام لوگوں کے اتنے زیادہ نقصانات ہو چکے ہیں کہ وہ حکومت اور سکیورٹی فورسز سے بری طرح بدظن ہوگئے ہیں اور ان کا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ساری تباہی کا ذمہ دار پاکستان اور امریکہ کی غلط پالیسیاں ہیں۔ ان کے مطابق ’جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکہ اور سی آئی اے کو کھلی چھٹی دی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی مرضی کرتے رہے اور جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آجکل دنوں ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری بڑی غلطی یہ تھی کہ ہم نے اپنے مفادات کی بجائے امریکہ کے مفادات کو مقدم رکھا اور ہمارے دوست ہمیں جو کچھ کہتے رہے ہم اسے بغیر کسی سوال کے مانتے رہے‘۔

صوبہ خیبر پختونخوا ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں پہلے ہی مختلف شعبوں میں پسماندگی کا شکار تھا اور اس ’جنگ‘ کے نتیجے میں اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ترقی کی گاڑی کو’ریورس گیئر‘ لگا دیا گیا ہو۔

عسکریت پسندوں کے حملوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف شہروں میں بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں پانچ سے سو زائد سکول تباہ ہوئے ہیں جبکہ نجی املاک، فوجی مراکز، پولیس تھانوں اور سرکاری و نجی عمارات کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔

لوگوں کے کاروبار، روزگار، معیشت، رہن سہن، روایات ، ثقافت الغرض زندگی کا کوئی ایسا پہلو باقی نہیں رہا جو اس جنگ کی وجہ سے تباہی کے دہانے تک نہ پہنچا ہو۔

لڑائی اور بدامنی کے باعث لاکھوں افراد کو اپنےگھر بار چھوڑنے پڑے اور اس حوالے سے صرف مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کے باعث تقریباً پچیس سے تیس لاکھ افراد چند ماہ تک بےگھر ہوکر پناہ گزین کمیپوں میں مقیم رہے۔

یہی نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں نے وہاں بدامنی کی وجہ سے بندوبستی علاقوں کا رخ کر لیا اور وہاں مستقل طورپر سکونت اختیار کرلی اور فی الحال ان لوگوں کا واپس اپنے آبائی علاقوں میں جانے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔

دس سال سے جاری اس عالمی جنگ کی شدت کبھی کم ہوجاتی ہے اور کبھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن تاحال اس کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں نظر نہیں آ رہے ہیں اور اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ غریب شہری جس کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں اس کی زندگی بدستور کیوں غیر محفوظ ہے اور اس کا قصور کیا ہے؟

اسی بارے میں