’بھارت کو امریکہ سے سبق سیکھنا چاہیے‘

ممبئی میں چھببیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ہونے والے دہشتگرد حملوں کے دوران شہر کے پانچ مقامات پر لگاتار سات گھنٹے تک موت کا سایا چھایا رہا تھا اور ان حملوں نے پورے بھارت کو ہِلا کر رکھ دیا تھا۔

تاہم اس سے پہلے بھی ممبئی کئی بار شدت پسندوں کا نشانہ بنی لیکن چھبیس نومبر کو جو حملے ہوئے وہ اپنی نوعیت کے پہلے حملے تھے۔

دامودر تندیل نامی ماہی گیر کا تعلق اس جگہ سے ہے جہاں کراچی سے پانی کے راستے دس مسلح افراد شدت پسند حملے کرنے ممبئی آئے تھے۔

بھارتی ماہی گیروں کی انجمن کے صدر دامودر تندیل کے بقول بھارتی حکومت نے ان حملوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔

’حکومت نے ایک ساحلی پولیس فورس بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ساحلی علاقوں کے لیے ایک الگ پولیس تیار کرنے اور ماہی گیروں کی ٹریننگ کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ حکومت نے وعدے تو بہت کیے ہیں لیکن نبھائے نہیں ہیں۔‘

دامودر تندیل مزید کہتے ہیں ’آپ ممبئی کے اطراف میں بحرِ عرب کا اکیلے دورہ کر لیں کوئی پوچھنے والا نہیں ملےگا۔‘

دامودر تندیل خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ ان کی طرح ممبئی کے دیگر رہائشیوں کو بھی اس بات کا ڈر ہے کہ حکومت کی لاپرواہی اور نااہلی کی وجہ سے ان کے شہر میں کہیں مزید حملے نہ ہو جائیں۔

گزشتہ دنوں دلی کے ہائی کورٹ میں ہونے والے بم حملے کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ شدت پسندوں کے لیے بھارت اس لیے ابھی تک ایک آسان ہدف بنا ہوا ہے کیونکہ حکومت دہشتگردی سے نمٹنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔

ادریس صدیقی ایک مقامی جوہری ہیں۔ وہ کہتے ہیں نیو یارک میں دس سال پہلے بڑے دہشتگرد حملے ہوئے تھے لیکن اس کے بعد وہاں کوئی حملے نہیں ہوئے۔

’بھارت کو امریکہ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ نیویارک بھی ممبئی کی طرح ایک بڑی آبادی والا شہر ہے اور اس کے اطراف میں بھی ممبئی کی طرح ہی ساحلی علاقے ہیں لیکن وہاں دوبارہ اس طرح کے حملے کیوں نہیں ہوئے؟‘

شدت پسند حملوں پر ممبئی کے شہریوں کا تشویش کا اظہار کسی حد تک تو جائز ہے لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

مرکزی حکومت نے انسداد دہشتگردی کے لیے ایک ادارے کو تشکیل دی جسے قومی تفتیشی ایجنسی یعنی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

نیشنل کمانڈو فورس، این ایس جی کی ایک شاخ ممبئی میں قائم کی گئی۔ مہاراشٹرا حکومت نے فورس ون قائم کی۔اسی طرح دہشت گرد تنظیموں کو مالی امداد فراہم کرنے والوں پر نظر رکھنے کے لیے نئے قوانین بنائے گئے۔

ان سب اقدامات سے پہلے ملک میں دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے انسداد دہشتگردی ادارے یعنی اے ٹی ایس کا قیام عمل میں آیا تھا۔

کے پی رگھوونشی اس یونٹ کے پہلے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ممبئی اور بھارت کے دیگر شہروں کو دہشت گردی کے حملوں سے پوری طرح محفوظ رکھنا ناممکن ہے۔’ممبئی پہلے بھی دہشتگردی کا شکار ہو چکا ہے، اب بھی ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔‘

رگھوونشی کی دلیل ہے کہ ان حملوں کے باوجود بھارت سب سے محفوظ ملکوں میں سے ایک ہے۔ ’حملے کہاں نہیں ہوتے؟ آپ کہتے ہیں نیو یارک میں دس سال پہلے بڑے حملوں کے بعد ایک بار بھی حملے نہیں ہوئے۔ کل اگر دوبارہ وہاں حملے ہوجائیں تو آپ کیا کہیں گے؟‘

امریکہ یا یورپ میں سبھی بڑے حملوں کے بعد وہاں کی حکومتوں نے شدت پسندی کے خلاف کڑا رخ اختیار کیا ہے اور سیکورٹی سے متعلق سخت قوانین بنائے ہیں۔

اس ہفتے بدھ کو دلی ہائی کورٹ میں ہونے والے شدت پسند حملے کے بعد عوام نے یہ سوال پوچھا کہ بھارتی حکومت ایسے اقدامات کیوں نہیں کرسکتی ہے۔

واشنگٹن میں مقیم صحافی سباسچین روتیلہ، جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کے ایک ماہر ہیں، کہتے ہیں ’بھارت کے مقابلے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے پاس ذرائع زیادہ ہیں۔ وہ دہشتگرد تنظیموں کا تعاقب بڑی محنت اور لگن سے کرتے ہیں۔ بھارت پاکستان اور افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اور اس وجہ سے بھارت کو ان سب مسائل سے نمٹنے کے لیے زيادہ مشکلات کا سامنا ہے۔‘

اصغر علی انجینئر بھارت میں مسلمانوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بھارت میں دہشت گرد حملوں کو روکنا مشکل ہے۔

ان کا کہنا ہے ’بھارت پاکستان کا پڑوسی ملک ہے ۔ شدت پسندوں کے لیے وہاں سے آکر بھارت میں حملے کرنا آسان ہے۔ دوسری بات یہ ہے کے بھارت مغربی ممالک کے مقابلے میں مواصلات اور دیگر ٹیکنالوجی میں پیچھے ہے۔ تیسری بات یہ کہ بھارت کی اپنی نااہلی بھی ان حملوں کے لیے ذمہ دار ہے۔ اسی لیے یہاں حملے ہوتے رہتے ہیں۔‘

اصغر علی انجینئر کے مطابق بھارت کے پاس قومی سطح پر دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی پختہ پالیسی نہیں ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت حملوں کے بعد وعدے تو کرتی ہے لیکن ان وعدوں کو پورا نہیں کر پاتی ہے۔

ہندوستان کی عوام انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایک سخت قانون کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بھارت میں دو الگ الگ مواقع پر ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین بنائے ہیں لیکن پولیس کے ذریعے ان قوانین کا بےجا استعمال ہوا اور اسی وجہ سے انہیں منسوخ کرنا پڑا۔

اسی بارے میں