سوات میں گھروں میں رقص اور موسیقی پر پابندی

سوات میں موسیقی

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس کی جانب سے مقامی رقاصاؤں اور گلوکاراؤں کی جانب سے ان کی رہائش گاہوں پر رقص اور موسیقی کی محفلیں منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

صحافی انور شاہ کے مطابق مقامی فنکاروں کا کہنا ہے کہ 'اس پابندی نے طالبان دور کی یاد تازہ کردی ہے۔'

ان کے مطابق اب تو سوات میں امن قائم ہے اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور پولیس اہلکار تعینات ہیں ایسے میں اس قسم کی پابندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔'

مینگورہ شہر کے وسط میں آباد محلہ بنڑ پیشہ ور فن کاروں اور رقاصاؤں کے حوالے سے کافی شہرت رکھتا ہے اور یہاں والیِ سوات کے دور سے اس فن سے وابستہ لوگ آباد ہیں تاہم حالیہ پابندی سے یہاں مقیم فن کار شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

اس حوالے سے گلوکارہ سعدیہ شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اگر یہی پابندی برقرار رہتی ہے تو معاشی مشکلات سے چھٹکارے کے لیے یہاں مقیم فن کار نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔'

اس فن سے وابستہ ایک شخص جہانگیر پابندی کے اس صورتحال پر انتہائی افسردہ نظر آئے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پہلے ہمارے گھروں پر لوگ گانا سننے آتے اور یہی ہمارے لوگوں کا ذریعہ معاش ہے لیکن اس پابندی کے بعد ہم نے انہیں منع کردیا ہے اب وہ نہیں آتے۔ '

ان کے مطابق علاقے میں رقاصاؤں اور اس فن سے منسلک دیگر لوگ جن میں اکثریت کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہے ان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے بتایا وہ تقریبات کےلیے باہر جانے سے پہلے مقامی پولیس سٹیشن میں اطلاع کرتے ہیں اور یہ کہ باہر پروگرامز کے لیے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔

نئی ابھرتی ہوئی گلوکارہ نادیہ کا کہنا تھا کہ 'میں نے بہت شوق سے اس فن کا انتخاب کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اس فن میں ایک مقام حاصل کروں لیکن حالیہ پابندی میری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔'

ان کے مطابق اس قسم کی بلاجواز پابندیوں سے اس میدان میں آگے آنے والے فن کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

گلوکاراؤں اور رقاصاؤں پر پابندی کے حوالے سے مینگورہ کے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ حبیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ علاقہ دہشت گردی سے متاثرہ ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی انجانے شخص کو گھروں کے اندر نہ لے کر جائیں۔'

ان کے مطابق فنکاروں کے باہر جانے اور پروگرامز کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

محلہ بنڑ میں رہنے والے ایک مقامی شخص سلیمان نے بتایا کہ اس پابندی سے اس محلے کی رونقیں ماند پڑگئی ہیں اور جہاں گانوں کی آوازیں اور گھنگروؤں کی جھنجناہٹ اس محلے کی رونقیں بڑھاتی تھی اب وہاں خاموشی ہے۔

تاہم علاقے کے کچھ لوگ پولیس کی جانب سے اس پابندی کو سراہتے بھی ہیں لوگوں کا موقف ہے کہ یہاں اکثر اوقات یہاں آنے والے لوگ غل غپاڑہ کرتے تھے جس سے یہاں کے مکین پریشان رہتے تھے۔

متعلقہ عنوانات